سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 614 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 614

614 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ لڑ پڑتے ہیں اور چڑچڑا پن دکھاتے ہیں مگر مرحوم ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے اب بھی ان کا چہرہ مسکرا تا ہوا ہی میری آنکھوں کے آگے پھر رہا ہے۔(۲) حضرت مفتی محمد صادق صاحب آپ نے فرمایا کہ حضرت میر صاحب مرحوم کو میں بچپن سے جانتا ہوں۔آپ نہایت ذہین اور عقلمند انسان تھے۔آپ کی تعلیم و تربیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان میں ہوئی تھی اور ان میں اور حضور علیہ السلام کے بیٹوں میں کوئی فرق نہ کر سکتا تھا۔حضرت نانا جان مرحوم رضی اللہ عنہ نے جو نیک کام جاری کئے تھے۔میر صاحب مرحوم نے بھی ان کو جاری رکھا۔ناظر ضیافت کے فرائض آپ ایسی عمدگی سے ادا کرتے رہے کہ ہم لوگ ہمیشہ اس پر حیران ہوا کرتے تھے کہ وہ اتنا کام کس طرح کرتے ہیں اور اس کے صلہ میں آپ نے کبھی کوئی الاؤنس نہیں لیا۔بارہا یہ سوال مجلس میں پیش ہوا کہ ان کے ذمہ کام بہت ہے۔نظارت ضیافت کا کچھ الاؤنس ان کو دیا جائے مگر انہوں نے ہمیشہ انکار کیا بہت بُردبار اور تحمل انسان تھے۔میں نے کبھی ان کو ناراض ہوتے نہیں دیکھا۔وہ ہمیشہ اپنی رائے پر قائم رہتے تھے مگر اختلاف رائے پر ناراض نہ ہوتے تھے۔مجلس میں ہمیں ان پر اتنا اعتماد تھا کہ میں تو کئی بار کہا کرتا تھا کہ میر صاحب آپ لکھتے جائیں ہم دستخط کر دیں گے۔ان کے سپرد کئی کام تھے۔ہیڈ ماسٹری اور نظارت ضیافت کے علاوہ قاضی بھی تھے۔دار الشیوخ کے مہتمم تھے۔انجمن کے ممبر تھے۔پھر درس دیتے تھے اور اس طرح ان کے دماغ پر اتنا بوجھ تھا کہ جسے ان کا جسم برداشت نہ کر سکا اور وہ شہید ہو گئے۔غربا کو ان سے بہت امداد ملتی تھی ایک احمدی دوست وزیر خاں صاحب فوت ہوئے تو ان کی جائیداد بھی تھی اور لڑ کے بھی تھے۔مگر ان کے ذمے وصیت کی رقم بقا یا تھی۔جو ان کے لڑکے دینا نہ چاہتے تھے اور اس طرح وہ مقبرہ بہشتی میں دفن نہ ہو سکتے تھے۔میر صاحب مرحوم نے ان کی وصیت کا بقایا اپنے ذمہ لے لیا اور اس طرح وہ بہشتی مقبرہ میں دفن ہو گئے۔(۳) جناب خلیل احمد صاحب ناصر آپ نے کہا کہ حضرت میر صاحب بہت خوبیوں کے بزرگ تھے۔وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں کھنچی