سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 613
613 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اس طرح فدا ہونے کے لئے تیار ہو جا ئیں کہ جس طرح برسات کی رات پروانے شمع پر قربان ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے قرآن کے نور کی شعاعیں ہمارے دلوں پر ڈالے اور اس نے جو وعدے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کئے ہیں۔انہیں اپنے فضل سے پورا فرمائے۔ہماری کمزوریوں کو دور فرمائے۔ہمارے دلوں کو ڈھارس دے ہمیں اور ہماری اولادوں کو اپنی پسندیدہ راہوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔حتی کہ ہم اس کے ہی ہو جائیں اور کوئی چیز ہمارے اور اس کے درمیان روک نہ ہوا ور کوئی چیز اس کو ہم سے جدا کرنے والی نہ ہو۔وہ ہمارا اور ہمارا اور ہمارا ہی ہو جائے اور ہم بھی اس کے اور اس کے اور صرف اسی کے ہو جائیں۔اے حضرت میر محمد الحق صاحب رضی اللہ عنہ کا ذکر خیر جماعت احمدیہ کے بزرگوں کی زبان سے ۲۰ مارچ کو مسجد اقصٰی میں زیر صدارت جناب چوہدری فتح محمد صاحب ناظر اعلیٰ حضرت میر محمد الحق صاحب کے محامد ومحاسن بیان کرنے کیلئے جو جلسہ منعقد کیا گیا۔اس میں بعض بزرگوں نے حضرت میر صاحب مرحوم و مغفور کی زندگی کے بعض نہایت سبق آموز واقعات بیان کئے جنہیں خلاصہ درج کیا جاتا ہے۔(1) جناب چوہدری فتح محمد صاحب ایم اے آپ نے فرمایا میر صاحب کی وفات قابل رشک ہے۔میرے وہ بچپن کے ساتھی تھے۔قریباً پچیس سال ہمیں مل کر کام کرنے کا موقعہ ملا اور کسی شخص کے محاسن جتنے اس کے رفقاء پر ظاہر ہو سکتے ہیں وہ دوسروں پر نہیں ہو سکتے۔میر صاحب مرحوم نہایت ز کی فہیم اور صائب الرائے انسان تھے۔مجھے ان پر اتنا اعتماد تھا کہ جس مجلس میں وہ موجود ہوتے میں اس میں بے فکر رہتا تھا۔کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ آج ہم جو فیصلہ کریں گے وہ درست ہو گا۔جس شام کو مرحوم بیمار ہوئے۔اس روز ساڑھے پانچ بجے تک میرے ساتھ رہے اور جلسہ لودہیا نہ کے انتظامات کا ذکر رہا۔آخری بات جو مرحوم نے مجھ سے کی یہ تھی کہ ہماری نمازوں کے محفوظ ہونے کا انتظام ہونا ضروری ہے۔اگر ریز روگاڑی کا انتظام ہو جائے تو نماز میں نقص نہیں ہوسکتا۔آپ کبھی گھبراتے نہ تھے۔بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ساتھیوں سے