سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 609
609 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کے لئے رکھتے تھے۔میں انہیں زندہ یقین کرتا ہوں اور میں انہیں شہید سمجھتا ہوں کہ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک سلسلہ کی خدمت کی۔ہر گز نمیرد آن که دلش زنده شد به عشق ثبت است بر جریده عالم دوام ما (عرفانی کبیر ) حضرت امیر المونین خلیل مسیح اثانی ای واللہ کی تقریر حضرت میر محمد الحق صاحب کی وفات پر اپنے آپ کو خدمت دین کیلئے وقف کر دو ۱۷، مارچ نماز مغرب کے وقت حضرت میر محم الحق صاحب کی وفات ہوئی۔مغرب وعشاء کی نمازیں پڑھانے کے بعد حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے حسب ذیل تقریر فرمائی۔اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کو ایسا بنایا ہے کہ ہر شخص کو اپنے قریب کی چیزوں کا زیادہ احساس ہوتا ہے اور جو چیز بعید کی ہوتی ہے اس کا احساس اس کو کم ہوتا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو صحابہ کرام کے لئے وہ ایک موت کا دن تھا۔مگر جب حضرت ابوبکر فوت ہوئے تو وہ تابعین جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا تھا اور اسلام حضرت ابو بکر سے سیکھا تھا ان کو اس وفات کا شدید ترین صدمہ ہوا۔ویسا ہی صدمہ جیسا کہ صحابہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا ہوا تھا اسی طرح ایک کے بعد ایک زمانہ کے لوگ گزرتے چلے گئے اور جب سارے گزر گئے تو کسی وقت عالم اسلامی کے لئے حسن بصری یا جنید بغدادی کی وفات ایسے ہی صدمہ کا باعث تھی۔جیسی صحابہ کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات۔مگر یہ احساس نتیجہ تھا اس بات کا کہ حسن بصری اور جنید بغدادی جیسے لوگ مسلمانوں میں بہت شاز پیدا ہوتے تھے۔اگر ساری اُمت ہی حسن اور جنید ہوتی تو وہ در داور وہ چھن جوان بزرگوں کی وفات پر بلند ہوئیں یوں بلند نہ ہوتیں۔بدقسمتی سے اکثر لوگ رونا بھی جانتے ہیں۔اظہار غم کرنا بھی جانتے ہیں مگر اکثر لوگ خدا تعالیٰ کے لئے زندگی وقف کرنا اور کام کرنا نہیں جانتے یہی وجہ ہے کہ دنیا پر حزن و غم کی چادر پڑی رہتی ہے۔اگر سب کے سب لوگ دین کی