سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 492 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 492

492 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کے بعد تھوڑی دیر کے لئے سو جاتے تھے کیونکہ رات کا زیادہ حصہ آپ جاگ کر گزارتے تھے جس کی وجہ ی تھی کہ اول تو آپ کو اکثر اوقات رات کے وقت بھی مضامین لکھنے پڑتے تھے جو آپ عموماً بہت دیر تک لکھتے رہتے تھے دوسرے آپ کو پیشاب کے لئے بھی کئی دفعہ اُٹھنا پڑتا تھا۔اس کے علاوہ نماز تہجد کے لئے بھی اُٹھتے تھے۔نیز والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت صاحب مٹی کے تیل کی روشنی کے سامنے بیٹھ کر کام کرنا نا پسند کرتے تھے اور اس کی جگہ موم بتیاں استعمال کرتے تھے۔ایک زمانہ میں کچھ عرصہ گیس کا لیمپ بھی استعمال کیا تھا۔بسم الله الرحمن الرحيم ۵۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فریضہ نماز کی ابتدائی سنتیں گھر میں ادا کرتے تھے اور بعد کی سنتیں بھی عموماً گھر میں اور کبھی کبھی مسجد میں پڑھتے تھے۔خاکسار نے دریافت کیا کہ حضرت صاحب نماز کو لمبا کرتے تھے یا خفیف ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ عموماً خفیف پڑھتے تھے۔بسم الله الرحمن الرحيم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا کہ ایک دفعہ جب میں کسی سفر سے واپس قادیان آرہا تھا تو میں نے بٹالہ پہنچ کر قادیان کے لئے یکہ کرایہ پر کیا۔اس یکہ میں ایک ہند وسواری بھی بیٹھنے والی تھی۔جب ہم سوار ہونے لگے تو وہ ہند وجلدی کر کے اُس طرف چڑھ گیا جو سورج کے رُخ سے دوسری جانب تھی اور مجھے سورج کے سامنے بیٹھنا پڑا۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ جب ہم شہر سے نکلے تو ناگاہ بادل کا ٹکٹر اُٹھا اور میرے اور سورج کے درمیان آ گیا اور ساتھ ساتھ آیا۔خاکسار نے والدہ صاحبہ سے دریافت کیا کہ کیا وہ ہند و پھر کچھ بولا۔والدہ نے فرما یا یاد پڑتا ہے کہ حضرت صاحب نے فرمایا تھا کہ پھر اس ہندو نے بہت معذرت کی اور شرمندہ ہوا۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ وہ گرمی کے دن تھے۔بسم الله الرحمن الرحيم ے۔بیان کیا کہ مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا کہ ایک دفعہ کسی مقدمہ کے واسطے میں ڈلہوزی پہاڑ پر جا رہا تھا۔راستہ میں بارش آ گئی۔میں اور