سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 490
490 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ تمہیدی نوٹ أم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شان بہت بلند ہے اور آپ کی سیرۃ مطہرہ میں بعض ایسی خصوصیات ہیں جو آپ کو دوسروں سے امتیاز بخشتی ہیں۔منجملہ ان خصوصیات کے ایک یہ ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرۃ اندرونِ خانہ اور اہلی زندگی کا اسوۂ حسنہ آپ ہی کے ذریعہ معلوم ہوا۔حضرت اُم المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فقاہت اور فطنت کی ایک عدیم النظیر خاتون تھیں اور تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ ایام حج میں آپ کے آستانہ پر ایک بے پناہ ہجوم ہر ملک کے لوگوں کا موجود رہتا تھا تا کہ آپ سے بعض مسائل معلوم کریں۔چنانچہ لوگ سوال کرتے اور آپ ان کے جوابات سے تربیت کے اہم فرض کو ادا فرماتی تھیں۔اسی طرح حضرت ام المؤمنین سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کو یہ خصوصیت اور امتیاز حاصل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اندرون خانہ زندگی کا بہترین علم آپ کے ذریعہ ملا ہے اور یہ عجیب بات ہے جیسے سب سے زیادہ موقعہ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی کو ازدواج مطہرات میں ملا۔اسی طرح یہ نعمت حضرت ام المؤمنین سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ ہی کے حصہ میں آئی اور کیوں ایسا نہ ہوتا۔مشیت ایزدی نے ازل ہی سے یہ مقرر کر رکھا تھا۔خدا تعالیٰ کی وحی میں اذکر نعمتی جو آیا ہے تو حضرت اُم المؤمنین کا وجود مختلف رنگوں میں ایک نعمت عظمی ہے۔گویا وہ مجسم نعمت ہیں۔حضرت اُم المؤمنین کے ذریعہ جو روایات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پاک سیرۃ کے متعلق میں ذیل میں درج کر رہا ہوں۔یہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ الاحد کی سعی اور محنت کا نتیجہ ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ کے سوا کسی دوسرے سے یہ ممکن نہ تھا۔آپ کو حضرت اُم المؤمنین کے نور نظر ہونے کی حیثیت سے ہر وقت یہ موقعہ حاصل ہے کہ حضرت اُم المؤمنین کے اوقات اور طبیعت کی درستی کو نگاہ رکھتے ہوئے تھوڑا تھوڑا دریافت کرتے رہیں۔خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ بہت بڑا حصہ اس طرح جمع ہو گیا۔اس وقت تک کے شائع شدہ حصہ کو سیرۃ المہدی ہی سے لے کر میں شائع کرنے کی عزت وسعادت حاصل کر رہا ہوں۔اس قدر بیان کر دینا بھی ضروری ہے کہ میں نے عموماً نفس روایات کو درج کیا ہے۔کہیں کہیں