سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 487
487 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کوٹ پہن کر ان سب کو ایک جگہ کر لیتی ہیں۔ایک ہاتھ میں تسبیح اور ایک میں دستانہ ہوتا ہے۔علی الصبح بعد نماز گھر سے نکلتی ہیں۔پہلے عزیزوں کے ہاں، دوستوں کے ہاں ، اخلاص مندوں اور معتقدوں کے ہاں جاتی ہیں۔اس میں مزاج پرسی ، دریافت حال ، عیادت اور تیمارداری سب ہی کچھ ہوتا ہے۔کہیں بچوں کا علاج کرتی ہیں۔کہیں بڑوں کی مزاج پرسی۔کسی جگہ دوا بتاتی ہیں اور کہیں دوا خود تیار کر کے دیتی ہیں۔دتی کی بڑی بوڑھی بیگمات کا یہ طریقہ تھا کہ بچوں کے درد دکھ کا علاج گھر کی بڑی بوڑھی بیگمیں کیا کرتی تھیں۔وہی آپا صاحبہ کا طریقہ کار ہے اور اس علاج معالجہ میں ان کو اچھی دست گاہ ہے۔چھوٹے چھوٹے چٹکلے بچوں کے معمولی امراض میں بہت مفید ہوتے ہیں۔دس گیارہ بجے تک وہ اپنی اس مصروفیت سے فارغ ہو کر گھر پہنچ جاتی ہیں۔دو پہر کا کھانا کھا کر آرام کرتی ہیں۔ظہر اور عصر کی نماز تک گھر میں بہو بیٹیوں سے ملتی رہتی ہیں اور شام کو پھر چہل قدمی کو نکل جاتی ہیں۔اس پروگرام کی وہ حتی المقدور پابندی کرتی ہیں۔اس وقت ان کی عمر۔۔۔) سال ہے۔مگر ارادہ میں جوان ہیں۔عمل میں جوان ہیں۔اپنے عزم میں جوان ہیں۔ایک بارعب کمانڈر کی طرح قادیان کی آبادی پر اثر ہے۔جس طرح خلوص اور محبت سے ملتی ہیں۔اسی طرح رعب اور اثر سے کام لیتی ہیں۔ان امور میں ان کو دلچسپی ہے اور اسی کو انہوں نے اپنا شغل بنا رکھا ہے۔جس طرح کنبہ کو ان کی ضرورت ہے۔اسی طرح قادیان کی آبادی کو ان کی ضرورت ہے۔یہ بلا لحاظ مذہب و ملت ہر ایک سے حسن سلوک کے ساتھ ملتی ہیں۔جو کچھ ممکن ہوتا ہے اس کی خدمت کرتی ہیں۔اطمینان اور دلاسہ دیتی ہیں۔بہر حال برسوں کی آرزو پوری کر کے عزیزوں سے مل کے قادیان کو دیکھ کے قادیان سے رخصت ہو گیا۔جی تو چاہتا ہے کہ ایک دفعہ اور ہو آؤں مگر اے بسا آرزو که خاک شده اب تک تو یہی ہو رہا ہے۔آئندہ کی خبر خدا جانے۔والسلام سلیم بیگ