سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 472
472 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ہے۔اس پر حضرت نانا جان نے فرمایا کہ حضرت اقدس ایک کپڑا ہاتھ میں لئے ہوئے بہت خوشی خوشی اندر تشریف لائے اور حضرت اُم المؤمنین کو ہنستے ہوئے وہ کپڑا دیکر فرمایا کہ یہ کپڑا محمد بخش تھانیدار جس نے لیکھرام کے قتل کے موقع پر تلاشی کے وقت تمہارے ٹرنک کھولے تھے۔اس کے لڑکے نے دیا ہے۔اتنے میں میں نے بھی سنتیں پڑھ لیں تو حضرت نانا جان میرے ساتھ بہت شفقت سے ملے اور پھر فرمایا کہ آج حضرت اقدس تمہاری وجہ سے بہت خوش ہیں اور حضرت اُم المؤمنین کو تمہارا کپڑا دیتے ہوئے خوشی کا اظہار فرمایا ہے۔تمہیں مبارک ہو۔۲۔مندرجہ بالا واقعہ کے قریباً دس، بارہ سال کے بعد میری اہلیہ قادیان میں آئیں اور حضرت سیدہ ام المؤمنین کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئیں تو حضرت سیدہ نہایت ہی شفقت سے ان سے ملیں اور فرمایا کہ تم تو بہت دیر سے آئی ہو۔مگر تمہارے میاں ہمارے مدت سے واقف ہیں۔ہمیں یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں تمہارے میاں ہمارے لئے ایک کپڑا لائے تھے جو حضرت اقدس لے کر خوشی خوشی اندر تشریف لائے اور ہنستے ہوئے مجھے دے کر فرمایا کہ یہ تمہارے لئے محمد بخش تھانیدار بٹالہ کا لڑکا لایا ہے جس کے والد نے تلاشی کے وقت تمہارے ٹرنک کھولے تھے۔میری اہلیہ نے مجھ سے اس کا تذکرہ کیا۔تو مجھے حضرت سیدہ کی اس کمال شفقت اور غریب نوازی پر بہت تعجب ہوا۔کیونکہ مجھے وہ واقعہ بھول چکا تھا۔مگر اس رحیم و کریم مادر مہربان نے بکمال ذرہ نوازی اس کو یا درکھا تھا۔۳۔میری اہلیہ نے بیان کیا کہ اس پہلی ملاقات کے بعد جب میں واپس جانے کے لئے حضرت سیدہ اُم المؤمنین سے اجازت لینے گئی تو اس مادر مہربان نے بکمال شفقت مجھ سے معانقہ فرمایا اور اپنی مادرانہ آغوش رحمت میں لیکر بہت زور سے مجھے بڑی دیر تک اپنے مقدس سینے سے لگائے رکھا اور بعد اس کے اس طریق سے دست شفقت میرے سر پر پھیرا اور مجھے دعائیں دیں کہ مجھے اپنے رخصتانہ کا نظارہ یاد آ گیا اور میں آبدیدہ ہو گئی۔یقیناً وہ شفقت اور محبت جو اس مادر مہربان نے اس وقت دکھائی وہ اس سے ہزار ہا درجہ زیادہ تھی جو میری والدہ ماجدہ نے میرے رخصتانہ کے وقت دکھائی تھی اور میں اس کو کبھی بھول نہیں سکتی۔اللہ اللہ غریب نوازی اور شفقت کا بحت کمال مظاہرہ تھا۔۴۔جن ایام میں یہ عاجز کراچی میں ملازم تھا تو یہ عاجز ہمیشہ حضرت سیّدہ ام المؤمنین کی خدمت با برکت میں عرض کرتا رہا کہ وہ از راہ کرم کراچی تشریف لائیں۔کئی بار حضرت اقدس سیدنا امیر المومنین