سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 471 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 471

471 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کی دین ہے اور اس کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اب وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی کا اسی طرح نشان ہیں جیسے عکرمہ رضی اللہ عنہ آنحضرت ﷺ کی صداقت کا معجزہ تھے۔سلسلہ عالیہ احمد یہ میں ایسی نظیریں کثرت سے ہیں کہ باپ سخت مخالف تھا اور بیٹا بے حد مخلص ثابت ہوا۔میں شیخ صاحب کی روایات کو ان کے اپنے الفاظ میں ان کے تاثرات کے ساتھ درج کر دیتا ہوں۔عرفانی کبیر ا۔سیرۃ المہدی حصہ سوم میں روایت نمبر ۶۳۲۔میرے لڑکے عزیز مکرم میجر غلام احمد آئی۔ایم۔ایس کی طرف سے شائع شدہ ہے۔وہ روایت نامکمل اور صحیح طور پر درج شدہ نہیں ہے۔اس لئے میں اس جگہ مفصل اور صحیح درج کرتا ہوں۔وَهُوَ هذَا - میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سال ۱۹۰۷ء کے شروع میں حضرت اقدس سیدنا مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک پر بیعت کی تھی۔میری بیعت الدار مسیح کے صحن میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایک دو دیگر اصحاب کی موجودگی میں کی گئی تھی۔بیعت کرنے سے پہلے میں نے دست بستہ اور چشم پر آب کے ساتھ حضرت اقدس سے عرض کی کہ حضور۔اللہ اس عاجز کے والد کو معاف فرماویں اور ان کے لئے دعا فرما دیں۔حضور نے از راہ غریب نوازی فرمایا۔بہت اچھا۔بیعت کے بعد حضرت اقدس نے بہت دیر تک دعا فرمائی۔بیعت کرنے کے بعد جب ہم سیڑھیوں سے نیچے اترے تو وہاں خواجہ کمال الدین صاحب کھڑے تھے۔حضرت خلیفہ اول نے خواجہ صاحب کو فرمایا کہ دیکھئے اولاد ہو تو ایسی ہو آج اس لڑکے نے اپنے والد میاں محمد بخش تھانیدار کو حضرت اقدس سے معافی دلائی ہے۔اور اس کے لئے دعا کرائی ہے۔اس کے بعد دوسری یا تیسری مرتبہ جب میں قادیان آیا تو حضرت سیدہ ام المؤمنین سلمہا اللہ تعالیٰ کے لئے ایک کپڑا ساتھ لیتے آیا اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیا کہ وہ حضرت اقدس کے حضور پیش کر دیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب ظہر کی نماز کے وقت تشریف لائے تو حضرت خلیفہ اول نے مجھے سامنے بلا کر وہ کپڑ احضور کی خدمت میں پیش کیا۔حضور نے کمال شفقت سے قبول فرما کر رکھ لیا اور بعد نما ز ساتھ لیکر اندر تشریف لے گئے۔اس کے بعد میں سنتیں پڑھنے لگا اور ابھی ختم نہ کی تھیں کہ حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب مرحوم و مغفور تشریف لائے اور خوشی کے لہجہ میں ہنستے ہوئے فرمایا کہ بھئی میاں محمد بخش تھانیدار کا لڑکا کونسا ہے۔میں اس وقت التحیات پڑھ رہا تھا تو حکیم محمد الدین صاحب نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ