سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 463
463 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ان کی کوئی سمجھے شام کا وقت بلکہ رات تھی جب پہنچے۔تنہائی کا عالم بیگانہ وطن میرے دل کی عجیب حالت تھی اور روتے روتے میرا بُرا حال ہو گیا تھا۔نہ کوئی اپنا تسلی دینے والا نہ منہ دھلانے والا نہ کھلانے والا نہ پلانے والا۔کنبہ نہ نا تا اکیلی حیران پریشانی میں آن کر اتری۔کمرے میں ایک گھری چار پائی پڑی تھی۔(جس کی پائینتی ایک میز پڑا تھا ) اس پر تھکی ہاری جو پڑی ہوں تو صبح ہوگئی یہ اس زمانہ کی ملکہ دو جہاں کا بستر عروسی تھا اور سسرال کے گھر میں پہلی رات تھی ! مگر خدا کی رحمت کے فرشتے پکار پکار کر کہ رہے تھے کہ اسے گھری چار پائی پر سونے والی پہلے دن کی دلہن دیکھ تو سہی دو جہاں کی نعمتیں ہوں گی اور تو ہوگی بلکہ تاج شاہی تیرے غلاموں کے قدموں سے لگے ہوں گے۔ایک دن انشاء اللہ۔اب خدا حافظ میں مضمون کی صورت میں تو کچھ لکھ نہ سکی مجھے افسوس ہے کہ یہ جلدی کا لکھا ہوا خط اس پر میرا بدخط جیسا بھی ہے حاضر ہے جو حصہ آپ چاہیں اپنی اور جناب شیخ صاحب کی مرضی سے ترتیب دے لیں۔اس وقت جو یا دآ تا گیا لکھ دیا ہے۔قلم برداشتہ جناب شیخ صاحب مکرم کو میر اسلام علیک پہنچا دیں اور دعا کیلئے کہیں۔نوٹ از عرفانی کبیر : میں نے سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے مکتوب گرامی کو پورا درج کر دیا ہے بجز اس حصہ کے جو مرحوم محمود احمد عرفانی نے جلد اوّل میں شائع کر دیا ہے۔عجیب بات ہے کہ یہ مکتوب ایک پیشگوئی کا حامل ثابت ہوا۔حضرت سیدہ نے لکھا کہ شیخ صاحب کی مرضی سے ترتیب دے لیں۔عزیز محمود مرحوم نے کچھ حصہ شائع کیا اور کچھ میرے حصہ میں آ گیا۔ان تأثرات کو غور سے پڑھیے حضرت ام المؤمنین کی سیرۃ طاہرہ کی گہرائیوں پر روشنی پڑتی ہے اور آپ کے مقام وشان اور طہارت نفس کا ایک سرسری انداز ہوتا ہے۔مثلاً طہارت نفس اور عصمت و عفت کا وہ بلند معیار جو حضرت ام المومنین نے اپنے عمل سے پیش کیا ہے وہ کتنا ارفع و اکمل ہے کہ عورتوں کا آپس میں زیادہ بے تکلف ہونا یا فضول مذاق آپ کو بے حد گراں گزرتا ہے۔یہ مقام صرف اس قلب مطہر کا ہو سکتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پاک کر دیا ہو جس کے دل و دماغ پر ہر وقت طہارت نفس کی لہریں پیدا ہوتی ہوں۔عورتوں میں باہم بے تکلفی اور فضول مذاق اور کھلی باتیں اس طرح عام بے ضرر کبھی جاتی ہیں۔جس طرح وہ پرانے رسم و رواج کے لحاظ سے ایک دوسرے کے سامنے ضرور تا بر ہنہ بھی ہو جاتی ہیں۔الا ماشاء اللہ مگر اس عفت وعصمت