سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 409
409 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کو کہا کہ امتہ الرحمن کو بلا لاؤ۔دادی آئی اور اس نے میری خوب خبر لی۔مگر میں ڈرتی ہوئی آئی اور مجھے اندیشہ تھا کہ معلوم نہیں اماں جان کیا کہیں گی۔جب میں آئی تو آپ نے مجھے صرف یہ کہا کہ زیور کہاں رکھا ہے میں نے کہا حضرت صاحب کے صندوق میں۔حضرت اُم المؤمنین نے خود جا کر صندوق کی تلاشی لی تو زیور اس میں سے مل گیا اور اونچی ہنسی سے حضرت مسیح موعود سے کہا کہ : آپ نے صندوق کا اچھا معائنہ کیا آپ کی تلاشی نے تو ہم دونوں کو فکر میں ڈال دیا۔حضرت صاحب بھی یہ سن کر ہنس پڑے۔( نوٹ ) حضرت اُم المؤمنین کا اعتماد علی النفس اور اپنے خدام پر اعتماد اور حسن ظن کا یہ بہترین واقعہ ہے اور خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے استغراق کا بھی پتہ لگتا ہے کہ آپ فکر دین میں اتنے مستغرق تھے کہ جس صندوق کو روزانہ کئی مرتبہ کھولتے ہیں اس میں پڑی ہوئی اشیاء کا بھی علم نہیں۔(۴) حضرت اماں جان کے گھر میں بہت سی خادمات رہتی تھیں اور حضرت اماں جان ان کی مذہبی پابندی اور نیک کرداری کا ہر طرح خیال رکھا کرتی تھیں۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل ڈاکٹڑی پڑھ رہے تھے اور تعطیلات میں آتے تو حضرت اُم المؤمنین ان کے آنے سے پیشتر سب کو حکم دے دیتی تھیں کہ چھوٹی بڑی تمام مستورات ان سے پردہ کیا کریں اس لئے کہ اب ان سے پردہ کا حکم ہے اور وہ ماشاء اللہ جوان ہو گئے ہیں۔( نوٹ ) اس سے احکام دین کے عملی اجرا کے لئے حضرت اُم المؤمنین کا جوش معلوم ہوتا ہے اور نیکی اور تقوی وطہارت کے لئے اس حکم پر عمل کرتی اور کراتیں رہیں ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہے۔(۵) حضرت اماں جان ہماری دلداری اور دل بہلائی کے لئے بعض نہایت پیاری پیاری باتیں اپنی زندگی کے واقعات کی کیا کرتی تھیں۔ایک مرتبہ فرمایا کہ جب میں نئی نئی قادیان آئی تو میں روشنی کے بغیر نہیں سو سکتی تھی۔جب میں سو جاتی تو حضرت مرزا صاحب روشنی گل کر دیتے اور میں جب پھر