سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 366
366 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ طرح سے اڑادیئے اور اس سال اللہ تعالیٰ نے اس قدر فضل و رحم فرمایا کہ خاں صاحب موصوف کی پوزیشن اس قدر مضبوط ہوگئی ہے کہ انہوں نے اپنے کارکنوں کو سات سو روپے کے انعامات عطا فرمائے ہیں۔خان محمد عبد اللہ خاں صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دامادی کا شرف حاصل ہے اور اس طرح وہ اس مبارک خاندان میں شامل ہو گئے ہیں جو خاندان نبوت کے مبارک نام سے قیامت تک معزز اور مشرف رہے گا۔خان محمد عبد اللہ خاں صاحب کے حالات بہت کم پریس میں آئے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک گوشہ نشین بزرگ ہیں اور ہر قسم کے نام و نمود سے دور بھاگتے ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اس میں ان کا اخلاص کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہوتا ہے۔تحریک جدید کے چندوں میں وہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔خدام الاحمدیہ کی عمارت کے فنڈ میں معقول رقم دی۔ماہواری چندوں میں پوری با قاعدگی ، سلسلہ کی تمام تحریکوں میں شوق سے حصہ لینا ان کا معمول ہے۔انہوں نے اپنے دونوں لخت جگر خدمت دین کے لئے وقف کر رکھے ہیں اور یہ واقعہ ہے کہ وہ بچے بھی اپنے دل میں خدمت دین کا بے پناہ جذ بہ محسوس کرتے ہیں۔چنانچہ گزشتہ سال کے موسم گرما کی بات ہے کہ صاحبزادہ عباس احمد خاں سلمہ اللہ تعالیٰ علاقہ سری گوبند پور میں تبلیغ کے لئے گئے ہوئے تھے۔ان کا ہیڈ کوارٹر ماڑی بچیاں نامی گاؤں میں تھا۔دیکھنے والوں نے دیکھا کہ یہ امیر ابن امیر کا نونہال جو ناز و نعمت کے گہوارے میں پرورش پائے ہوئے تھا۔دھوپ کی بھی پروا نہ کرتا ہوا گاؤں گاؤں شوق تبلیغ میں پھرتا رہتا تھا اور کبھی اگر کھانا نہ ملا تو صرف چنے چبا کر گزارا کر لیا کرتا تھا۔یہ بات ایک ایسے گھرانے کے نونہال میں جو ہمیشہ متنعمانہ زندگی بسر کرنے کا عادی ہو نہیں پیدا ہو سکتی جب تک وہ خاندان اور خصوصاً والدین ایک پاکیزہ زندگی گزانے کے عادی نہ ہوں۔میاں عباس احمد کا یہ جذبہ اور یہ شوق خان محمد عبد اللہ خاں صاحب اور صاحبزادی امة الحفیظ صاحبہ کی اپنی ذاتی پاکیزگی اور دینداری کا نتیجہ ہے۔خان محمد عبداللہ خان صاحب نے اس جلسہ میں ایک تقریر کی جو اس قابل ہے کہ ہر ایک مخلص احمدی اسے پڑھے تا وہ جان سکے کہ وہ کونسا جذ بہ اور وہ کونسی روح ہے جو ایک احمدی رئیس کے دل میں کام کر رہی ہے اور اس سے اس انقلاب کا بآسانی پتہ لگ سکے گا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے بعد روحوں میں ہوا ہے۔( محمود احمد عرفانی)