سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 358 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 358

358 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ مجھ کو اس مکتوب پر کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں اس کا ایک ایک لفظ اور جملہ اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان اور تو کل کا اظہار کرتا ہے۔ہاں میں اس دعا پر آمین کہتا ہوں جو حضرت میر صاحب نے کی اور اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس رنگِ ایمان سے حصہ دے۔یہی وہ صبغتہ اللہ ہے جو خدا تعالیٰ کا پسندیدہ ہے۔سیرت ام المؤمنین کا خلاصہ حضرت میر ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب میں یہ ایک کمال ہے کہ وہ ایک دریا کو کوزہ میں بند کر دیتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت کے متعلق بھی انہوں نے ایک اجمالی نقشہ پیش کیا حضرت اُم المؤمنین کے متعلق انہوں نے لکھا ہے کہ: (۱) بہت صدقہ خیرات کرنے والی (۲) ہر چندہ میں شریک ہونے والی (۳) اول وقت اور پوری توجہ اور انہماک سے پنجوقتہ نماز ادا کرنے والی (۴) صحت اور قوت کے زمانہ میں تہجد کا التزام رکھتی تھیں (۵) خدا کے خوف سے معمور (۶) صفائی پسند (۷) شاعر بامذاق (۸) مخصوص زنانہ جہالت کی باتوں سے دور (۹) گھر کی عمدہ منتظم (۱۰) اولاد پر از حد شفیق (۱۱) خاوند کی فرمانبردار (۱۲) کینہ نہ رکھنے والی (۱۳) عورتوں کا مشہور وصف ان کی تر یا ہٹ ہے مگر میں نے حضرت ممدوحہ کو اس عیب سے ہمیشہ پاک اور بری دیکھا۔حضرت اُم المؤمنین بھی لیلۃ القدر ہیں رمضان ۱۹۳۶ ء کا ذکر ہے کہ قادیان میں لوگ حسب معمول لیلۃ القدر کی تلاش میں تھے کہ ایک روز مکر می اخویم با بو فضل احمد صاحب بٹالوی مہاجر نے مجھے اپنی رؤیا سنائی کہ مجھے تو آج معلوم ہوا ہے کہ حضرت ام المؤمنین لیلۃ القدر ہیں۔میں پہلے تو اس فقرہ کوسن کر کچھ حیران سا ہوا پھر مجھ پر بھی واضح ہو گیا کہ حقیقتا انسان ہی لیلۃ القدر ہوتے ہیں نہ کہ زمانہ، زمانہ بعض مبارک وجودوں سے منور اور مبارک ہوکر لیلتہ القدر کہلانے لگتا ہے۔مگر یہ خاصیت اس زمانہ کی نہیں ہے بلکہ اس مبارک وجود کے فیضان کی ہے جو اسے بابرکت کر دیتا ہے۔آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود اور اسی طرح دیگر سب انبیاء علیہم السلام کے زمانے ان کی برکات کی وجہ سے لیلتہ القدر کہلاتے ہیں اور جب تک ایسے الله