سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 340
340 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ فرماتی ہیں اور حسب ضرورت و جائز وضروری امداد و ہمدردی میں مصروف رہتی ہیں۔اسراف سے اجتناب میں نے دیکھا ہے کہ آپ کی طبیعت با وجود بے انتہائی ہونے کے پھر بھی ذرہ سے اسراف سے اجتناب کرتی ہیں ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ کسی کپڑے کے رنگنے کے لئے نمک شریک کرنے کی ضرورت ہوئی۔نمک منگوایا اور رنگ میں شریک کرنے کے بعد جو بچ رہاوہ ایک چٹکی ہوگا جس کو ہم یونہی پھینک دیتے ہیں مگر نہیں آپ نے اپنے دستِ مبارک سے وہ چٹکی بھر نمک نمک دانی میں ڈال کر محفوظ کر دیا اور ضائع نہ ہونے دیا۔اس کا میرے دل پر خاص اثر ہوا۔جزاكم الله کہنا یہ ایک عجیب بات مشاہدہ میں آئی کہ حضرت اُم المؤمنین جس کسی مخلص کو جزاکم اللہ فرما دیتیں تو وہ اپنے مقاصد میں کامیاب و با مراد ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس فیض کو تمام جماعت احمدیہ کے لئے عام کرے اور اس عاجزہ کو بھی اس سے خاص حصہ ملے۔آمین عیدین کا احترام میرے زمانہ قیام میں عید الضحی وعید الفطر کے موقع پر میں نے دیکھا کہ حضرت اُم المؤمنین ہمہ تن مصروف انتظام ہیں۔خود بھی کام کر رہی ہیں اوروں سے بھی کام لے رہی ہیں۔گھر کے ایک ایک حصہ کو التزام کے ساتھ صاف کر رہی ہیں۔تمام اشیاء کو جھٹکوا رہی ہیں یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ مٹی کے برتنوں کو بھی لال گیرو کے رنگ سے رنگ دے رہی ہیں۔عیدین کے مواقع پر بڑی خوشی کا اظہار فرماتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عید اسی لئے بنائی ہے کہ مومنین خوش ہوں۔خوشبوؤں سے محبت حضرت اُم المؤمنین کو خوشبوؤں سے بڑی الفت و رغبت ہے دکن کی اگر یتی و برمکھی شوق سے استعمال فرماتی ہیں یہ آپ کے طہارت نفس کی کافی دلیل ہے جتنے نیک و پاک بندگانِ خدا ہوتے ہیں ان سب کو به ابتاع سنت یہی طریق عمل اختیار کرنا پڑتا ہے۔