سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 270 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 270

270 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ شخص عورت کی اس فطرت کو جو ام الحون اور شفقت مادری کے پیچھے چھپی ہوئی ہے نہیں جانتے ؟ کیا ہم نے بار ہا نہیں دیکھا کہ ایک عورت ایسے بچے کو جو بالکل لنگور یا بندر سے ملتا جلتا ہوتا ہے اور جسے سو کے یعنی سوکھ جانے کی بیماری ہو، جس پر لکھیاں بھنبھناتی ہوں لئے پھرتی ہے اور اس کی شفقت اور محبت میں ذرا فرق نہیں آتا۔کیا اپنے بچوں کے غم میں عورتیں صد ہا قسم کے دکھوں اور مرضوں میں مبتلا نہیں ہو جاتیں؟ کیا بعض ان میں سے پاگل نہیں ہو جاتیں؟ یہ سب محبت مادری کے کرشمے ہیں۔مگر اُم المؤمنین نصرت جہاں بیگم کے قلب میں تو ہر جگہ، ہر کونہ اور ہر گوشہ میں خدا ہی خدا بستا تھا۔اس نے خدا کی رضاء کو ہر چیز پر قبول کر لیا۔یہ تھی وہ سینی روح جو آپ کے اندر موجود تھی اور یہ تھی وہ صفائی قلب جو آپ کو حاصل تھی۔اس لحاظ سے اُم المؤمنین نصرت جہاں بیگم عصر حاضر کی سب سے بڑی باخدا خاتون ہیں ! اور یہی وہ خاتون ہیں جن کے قلب سے ہر قسم کے غیر اللہ کی محبت سلب کر لی گئی تھی اور خدا تعالیٰ نے ان کو خاص طور پر مطہر کر دیا تھا اور یہی تھیں وہ خدیجہ عصر حاضر جسے خدا نے فرمایا کہ میں خوش ہو گیا ! اب بتلاؤ ، ان ظالموں کیلئے کوئی جگہ باقی رہ جاتی ہے جو حضرت اُم المؤمنین کی ان فطری استعدادوں پر اعتراض کرتے ہیں، جو آپ کے اندر موعود اولاد کے لئے ودیعت کی گئی تھیں؟ یہ خدا تعالیٰ کا قولی جواب ہے اور آپ کی اولاد کا ان تمام برکات کا وارث ہو جانا جو خدا نے اپنی پاک وحی کے ذریعے دیئے جانے کا وعدہ کیا تھا خدا تعالیٰ کا فعلی جواب ہے۔اس کے باوجود جو شخص کسی قسم کی جرات و جسارت کرتا ہے یا کرے گا وہ اپنے انجام کا خود ذمہ وار ہے۔حضرت اقدس نے مبارک احمد کی وفات پر یہ تین شعر لکھے تھے جواب تک لوحِ مزار بنے ہوئے ہیں۔جگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک خو تھا وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہمارے دل کو حزیں بنا کر کہا کہ آئی ہے نیند مجھ کو یہی تھا آخر کا قول لیکن کچھ ایسے سوئے کہ پھر نہ جاگے تھکے بھی ہم پھر جگا جگا کر برس تھے آٹھ اور کچھ مہینے کہ جب خدا نے اسے بلایا بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر