سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 253
253 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ جس کے متعلق ایسی حالت پیدا کر دی گئی ہو۔آپ نے حضرت داؤڈ اور حضرت عیسی اور آنحضرت ﷺ کی مماثلت کا اس میں ذکر فرمایا۔تا کہ ہم ان کی مشکلات سے بھری ہوئی زندگی پر نظر ڈال سکیں اور پھر یہ جان سکیں کہ یہ مشکلات تو سنت انبیاء ہیں۔مگر اس کیفیت کو بیان کرنے کیلئے آپ نے حضرت داؤد علیہ السلام کی عبارت سے واضح کر کے اور بھی اس حقیقت کو بے نقاب کر دیا۔حضرت داؤد فرماتے ہیں: اے خدا! تو مجھ کو بچالے کہ پانی میری جان تک پہنچے ہیں۔میں گہری کیچ میں دھس چلا۔جہاں کھڑے ہونے کی جگہ نہیں میں چلاتے چلاتے میری آنکھیں دُھند ہو گئیں۔وہ جو بے سبب میرا کینہ رکھتے ہیں شمار میں میرے سر کے بالوں سے زیادہ ہیں۔اے خداوند رب الافواج وہ جو تیرا انتظار کرتے ہیں میرے لئے شرمندہ نہ ہوں۔وہ جو تجھ کو ڈھونڈتے ہیں وہ میرے لئے ندامت نہ اُٹھاویں۔وے پھاٹک پر بیٹھے ہوئے میری بابت بکتے ہیں اور نشے باز میرے حق میں گاتے ہیں تو میری ملامت کشی اور میری رسوائی اور میری بے حرمتی سے آگاہ ہے۔میں نے تا کا کہ کیا کوئی میرا ہمدرد ہے کوئی نہیں۔“ ۳۹ یہ کلام جو پہلے داؤد نے کہا تھا۔اسی حالت کا نقشہ کھینچ رہا ہے جو اس زمانہ میں ان ابتلاؤں کی وجہ سے ہوئی اور یہ دعا جو اس قلبی کیفیت کی آئینہ دار ہے۔اس زمانہ کے داؤد نے دوبارہ درج کر کے یہ ثابت کر دیا کہ میری حالت پہلے داؤڈ سے ذرہ بھی کم نہیں۔یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ اور کیوں ہوتا ہے! اس لئے کہ خدا تعالیٰ اپنے راستبازوں کی اس لا انتہاء قوت کو دنیا پر ظاہر کرے۔جو وہ خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا اور اس کی تبلیغ کے پہنچانے کے لئے اپنے اندر رکھتے ہیں۔یہ چیز انبیاء کی سیرت کا ایک باب ہے۔یہ وہ مقام ہے جس پر ان کے سوا کوئی پہنچ نہیں سکتا۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بالآ خر تمام امتحانات سے اول درجہ کے پاس یافتہ ہو کر نکلتے ہیں اور اپنے کامل صدق کی برکت سے پورے طور پر کامیاب ہو جاتے ہیں اور عزت وحرمت کا تاج ان کے سر پر رکھا جاتا ہے۔بالکل اسی اصل کے مطابق خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سر پر وہ تاج عزت و حرمت رکھ دیا۔ان آزمایشوں کی تمام تاریکیوں کو تار تار کر دیا۔