سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 190 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 190

190 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت اُم المؤمنین کی شان جس عظیم الشان خاتون کی سیرت لکھنے کیلئے میں یہ کتاب لکھ رہا ہوں وہ ایک طرف سے حضرت خواجہ میر درد کے خاندان کی ایک روشن چراغ ہیں اور دوسری طرف ددہیال کے رشتہ سے نواب خان دوران خان امیر الامراء کمانڈر انچیف افواج ہند اور تہیال کی طرف سے ان کا میرزا فولاد بیگ ایرانی تک سلسلہ جا ملتا ہے۔الغرض وہ ہر طرح سے عریق فی النسب ہیں اور یہ درمیانی کڑیاں باوجود اس کے کہ وہ سب درست ، مضبوط اور اعلیٰ درجے کی ہیں۔مگر میں ان کو نظر انداز کرتا ہوا کہتا ہوں کہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدۃ النساء فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بیٹی ہیں اور اس تعلق کی وجہ سے آپ محمدی بیگم ہیں۔آپ کی شان و عظمت کے کیا کہنے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے وجود کو عالم روحانی میں دیکھا اور اس تعلق کو محسوس کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فارسی النسل کو جسمانی طور پر اہل بیت میں شامل کرنے کا باعث ہوگا۔اسی تعلق اور نسب کو مدنظر رکھتے ہوئے فرمایا سلمان منا اهل البیت اور ان ہی الہی مقدرات کو مد نظر رکھ کر فرمايا لو كان الايمان معلقا بالثريا لناله رجل من ابناء الفارس۔اسی رجل فارسی کے لئے فرمایا کہ وہ ایک طرف ایمان آسمان سے لائے گا دوسری طرف وہ دجال کو قتل کرے گا۔صلیب کو توڑے گا اور وہ میرا بروز ہوگا۔وہ مسیح بھی ہوگا۔يَتَزَوَّجُ وَيُولَدُلَهُ “ وہ شادی بھی کرے گا اور اس کے اولاد بھی ہوگی اور اس کی اولا د بھی خاص ہو گی۔یہ سب پیشگوئیاں مستند اور مسلمہ ہیں۔وہ خاتون جو موعود امام اور بروز محمد اور مثیل مسیح کی بیوی بنے والی تھی اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی وقت دکھائی گئی تھی۔وہ عظیم الشان خاتون خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کی بیٹی تھی۔الغرض جیسے خدا تعالیٰ کے علم میں یہ بات مقدر تھی کہ ایک زمانہ اسلام پر ایسا آئے گا کہ یأْتِی عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَمْ يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُ ایسے زمانے میں جب کہ اسلام ایک اسمی اور رسمی چیز رہ جائے گا۔اُس وقت ایک شخص کا اسلام کی حفاظت وصیانت کیلئے مبعوث ہونا بھی مقد رتھا۔جو ران فتنوں کو مٹاکر شیطان سے آخری جنگ کر کے اسلام کا بول بالا کرے گا۔پھر دشمنوں کے اس اعتراض کا رد کرنے کے لئے جو انہوں نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا کہ ان کی کوئی نرینہ اولاد