سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 143
143 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ گویا کہ تمام وہ کام جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دینی انہماک کی وجہ سے یونہی پڑے ہوئے تھے ، وہ حضرت میر صاحب نے سنبھال لئے تھے۔ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ حضرت میر صاحب کی توجہ سے ایک زمانہ میں حضرت اقدس کا باغ گلزار بنا ہوا تھا۔ہزار ہا گملوں میں لگے ہوئے پھولوں کے پودے مختلف قسم کے خوشبو دار پھول، دیواروں اور دروازوں پر چڑھنے والی پھولوں کی بیلیں، انگوروں کی بیلیں ، ہر قسم کے پھل دار درخت، رنگا رنگ کے آم، لوکاٹ ،شہتوت ، امرود وغیرہ باغ میں بڑی محنت سے لگوائے گئے۔ایام زلزلہ میں جو ۱۹۰۵ء کے دن تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام باغ میں اصحاب کے ساتھ مقیم تھے۔اُس وقت باغ کی رونق کے کیا کہنے تھے۔باغ پورے جو بن پر تھا۔مدرسہ و ہیں لگا کرتا تھا۔خدا تعالیٰ کا محبوب اس زمانے کا ہادی اور راہنما اپنے عشاق کے حلقے میں وہاں جلوہ افروز ہوا کرتا تھا۔باغ کی ٹھنڈک اور سایہ۔پتوں میں سے دھوپ کا چھن چھن کر آنا۔پھولوں کی مہک اور اُن کا پورا جو بن ایک پُر کیف صورت پیدا کرتا تھا۔باغ کی یہ کیفیت حضرت میر صاحب کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ تھا۔آپ کو باغ کی صفائی اور ترقی کا اس حد تک خیال تھا کہ ایک دفعہ آپ کو الہام ہوا۔کہاں تک کرے گا صفائے باغ“ گویا کہ اس صفائی کے انہماک کا ذکر خود خدا تعالیٰ کو بھی اپنے عرش سے کرنا پڑا۔کھیتوں میں سبزی تر کاری کا سلسلہ بھی حضرت میر صاحب نے شروع کر دیا تھا۔چنانچہ باغ کے علاوہ بھی جہاں جہاں زمین اس غرض کے لئے مل سکی حضرت میر صاحب نے کارآمد بنا ڈالی۔مدرسہ احمدیہ کے متصل جہاں اب جناب قاضی اکمل صاحب کا مکان اور تفخیذ الا ذبان کا دفتر تھا، وہاں بھی مدتوں سبزی وغیرہ پیدا کی جاتی رہی۔یہ کھیت حضرت میر صاحب کی پیلی ، یعنی کھیت کے نام سے زبان زدتھا۔حضرت صاحب کے الدار میں کوئی تعمیر ہوتی ، تو حضرت میر صاحب قبلہ سارا سارا دن کھڑے تعمیر کا کام کراتے رہتے تھے۔عمالیق جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محض خدا واسطے کا بغض رکھتے تھے۔اُن کی فہمائش بھی کبھی کبھی حضرت میر صاحب کے ذریعے ہو جایا کرتی تھی۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہر ایک چیز کی حفاظت اپنا فرض خیال کرتے تھے۔وہ یہ سب کام ایک عشق کے ساتھ کرتے تھے اور میں پورے وثوق اور یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ کا ایک فضل تھا کہ اُس نے حضرت مسیح