سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 113 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 113

113 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سید ناصرا میر صاحب کی گدی نشینی کی مخالفت شاہ محمد نصیر صاحب کی ایک اور بیوی تھیں۔جن کے بطن سے دولڑکیاں پیدا ہوئیں جن کا نام تھا انجمن النساء اور اشرف النساء۔انجمن النساء صاحبہ کی شادی حکیم مومن خان صاحب مشہور شاعر سے ہوئی۔چونکہ حکیم مومن صاحب شاہ محمد نصیر صاحب کے داماد تھے اس لئے اُن کو سید ناصر امیر صاحب کی سجاده نشینی سخت ناگوار گزری۔ان کا خیال تھا کہ وہ شاہ محمد نصیر صاحب کی جگہ گدی نشین ہوتے۔مگر وہ خود بھی اپنے آپ کو اس کا اہل خیال نہ کرتے تھے۔اس لئے انہوں نے اپنے ہم زلف مولوی سید یوسف علی صاحب مدراسی کو آمادہ کیا۔جمعہ کے دن ان کے گلے میں کفنی ڈالی اور ایک ناصری اُن کے کندھے پر رکھی جو خواجہ میر درد کے خاندان کی خاص علامت ہے اور اُن کو جامعہ مسجد میں لے گئے۔جمہور مسلمانوں سے کہا گیا کہ یہ خواجہ محمد نصیر صاحب کی جگہ گدی نشین ہوئے ہیں۔مگر دلی کے لوگ ان کی طرف ذرا بھی متوجہ نہ ہوئے اور یہ جادو بھی نہ چل سکا۔۱۸ اس ناکامی کے بعد حکیم مومن نے اپنی بیوی اور سالی کی طرف سے یہ دعویٰ کر دیا کہ بارہ دری اور اس کے متعلق تمام جائیداد ہماری ہے۔اس مقدمہ بازی کا نتیجہ یہ ہوا کہ بارہ دری اور حجرہ یعنی خواجہ میر درد کا عبادت خانہ تو وقف ہو کر دعویٰ سے مستثنیٰ ہو گیا اور باقی جائیداد کا دعوی خارج ہو گیا کہ یہ تمام جائیداد خواجہ محمد نصیر کی نہیں بلکہ خواجہ میر درد کی متروکہ ہے البتہ خواجہ محمد نصیر صاحب کا چوتھائی حصہ تسلیم کیا گیا۔پور اس مقدمہ بازی کا یہ نتیجہ ہوا کہ حکیم مومن کی بیوی اور سالی کے مکانات مصارف مقدمہ میں پک گئے۔اب چوتھائی حصہ کے لئے پھر دعوی ہوا۔اس میں مومن خان کو کامیابی ہوئی۔خاندان کی جائیداد اس مقدمہ میں تباہ ہوگئی۔کئی مکانات نیلام ہو گئے اور اس طرح اس جائیداد کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔ناصری گنج کی طرف نظر اب ان کی آنکھوں کے سامنے صرف ناصری گنج کی جائیداد تھی اس کے لئے مومن خان صاحب نے مولوی یوسف علی صاحب کو ناصری گنج بھیجا تا کہ میر عبدالناصر صاحب پر نالش کر کے وہاں چوتھا حصہ وصول کیا جائے۔مگر میر عبدالناصر صاحب نے پہلے ہی بائیس کے بائیس گاؤں اپنی بیوی کے نام مہر پر لکھ دیے تھے۔اس لئے وہاں جانا سوائے زیر باری کے اور کوئی نتیجہ پیدا نہ کر سکا۔ہاں اس چھیڑ چھاڑ کا یہ نتیجہ ہوا کہ میر عبدالناصر صاحب جو روپیہ بی امانی بیگم صاحبہ اور دیگر حقداروں کو بھیجا کرتے تھے وہ