سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 107
107 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ گیا۔بادشاہ کے مزاج میں اُن کو بڑا دخل ہوا۔۱۱۴۹ ہجری ۱۸ ذیقعده بروز یک شنبہ کا تقرر باجی راؤ مرہٹہ کی سرکوبی کیلئے ہوا اس وقت ان کے خطابات میں مزید اضافہ ہو چکا تھا اور وہ امیر الامراء اور منصور جنگ کے گراں قدر خطابات کے حامل ہو چکے تھے اور اب ان کا نامِ نامی اس طرح لکھا جا تا تھا۔امیر الامراء صمصام الدولہ خانِ دوران خان بہادر، منصور جنگ اس وقت نواب خانِ دوران کی عظمت تھی کہ وہ بادشاہ کے علم کے بغیر گورنروں تک کے عزل و نصب کے احکام جاری کر دیتے تھے۔۱۰ امیر الامراء کے معاصرین امیر الامراء کا لقب معمولی لقب نہ تھا اور یہ ہر کس و ناکس کو نہیں دیا جا تا تھا۔قطب الملک، نظام الملک، آصف جاہ اوّل جیسے بڑے بڑے عمائدین نواب خان دوران کے معاصرین میں سے تھے۔اس زمانہ میں نواب روشن الدولہ رستم جنگ بھی ان کے معاصرین میں تھے جو خواجہ میر درد کے بزرگوں میں سے تھے۔نواب روشن الدولہ کا تذکرہ میں پہلے کر چکا ہوں۔مگر یہاں صمصام الدولہ کے ذکر کے ساتھ اس قدر ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ نواب روشن الدولہ افسر خزانہ تھے۔کابل کے محاصیل جو بارہ لاکھ سالا نہ تھے انہی کے پاس آتے تھے۔نواب روشن الدولہ کے گرانے کیلئے ان کے دشمن سازشیں کرتے رہتے تھے۔آخر فرخ سیر کے دل میں بھی شک پیدا ہوا تو اس نے روشن الدولہ سے چارج لینے کا کام بھی صمصام الدولہ کے سپرد کیا اور اس طرح روشن الدولہ کے بعد اُن کو افسر خزانہ اور افسر محاصیل افغانستان بھی مقرر کر دیا گیا۔11 فخر الدولہ صوبہ دار عظیم آباد پٹنہ فخر الدولہ جو نواب روشن الدولہ رستم جنگ کا حقیقی بھائی تھا، بھی حکومت مغلیہ میں بڑا با اثر شخص تھا۔وہ صوبہ عظیم آباد پٹنہ کا گورنر تھا۔اس زمانہ کی گورنری ایک مطلق العنان بادشاہ سے کم نہ ہوتی تھی۔ایک دفعہ جب کہ وہ اپنے علاقہ حکومت سے آیا ہوا تھا اس نے خواجہ معتصم سے کوئی ایسا سلوک کیا جو اُسے ناگوار گزرا۔خواجہ معتصم ایک باشان و شوکت انسان تھا۔مگر وہ فقراء اور مشائخ کے رنگ میں رنگین تھا۔یہ نواب صمصام الدولہ کا بھائی تھا۔اس نے اپنے بھائی صمصام الدولہ سے اس بے ادبی کا ذکر کیا جسے سن کر صمصام الدولہ اس قدر برہم ہوا کہ فخر الدولہ کو وہاں سے بدل دیا گیا۔۱۲