سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 60
60 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ دنیا ہے اور وہ ان قومی کونشو ونما دینے کے طریقے بتلائیں جن سے انسان عالم روحانیت میں جا گزین ہو سکنے کے قابل ہو جاتا ہے۔افسوس! کہ دنیا کو اس کو چہ کی خبر بھی نہیں اور اس حُسن و جمال سے آگاہ ہی نہیں جس کا تعلق روحانیت سے ہے اور جب انسان اس عالم میں پہنچ جاتا ہے تو وہ بے اختیار پکار اٹھتا ہے کس قدر ظاہر ہے نور اُس مبداء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا ہے اُس بہارِ حسن کا دل میں ہمارے جوش سے ترک یا تاتار کا مت کرو کچھ ذکر ہم ہے عجب جلوہ تیری قدرت کا پیارے ہر طرف جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے تیرے دیدار کا چشمہ خورشید میں موجیں تری مشہور ہیں ہر ستارے میں تماشہ ہے تری چمکار کا یعنی وہ اس دنیا میں کسی چیز کو سوائے اس نئی دنیا کے کچھ اور دیکھ ہی نہیں سکتا۔ہر چیز اسے خدا کی طرف بلاتی ہے اور اسے ہر جگہ سے ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے۔خدا۔خدا۔خدا۔وہ نئے نئے نظارے دیکھا کرتا ہے جو روحانی آنکھ کے اندھوں کو نظر ہی نہیں آسکتے۔اس قریب کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وجود میں ان نظاروں کو ہم بکثرت دیکھتے ہیں۔کبھی اللہ تعالیٰ کی تجلی ان کو اپنے والد کی شکل میں نظر آتی ہے اور کبھی حضرت فاطمہ اور حضرت علی اور حضرت امام حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو اپنے مکان میں دیکھتے ہیں۔سے کبھی رسول اللہ ﷺ سے بیداری میں ملاقاتیں ہوتی ہیں اور کبھی حضرت عیسی علیہ السلام سے ملاقات ہوتی ہے اور ایک ہی برتن میں بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔کبھی حضرت نانگ سے باتیں ہوتی ہیں اور اپنے اسلام کا آپ پر اظہار کرتے ہیں۔کبھی کرشن جی مہارائج سے ملاقات ہوتی ہے۔پس جواس