سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 645
645 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اقبال اور کامیابی اور ترقی عزت اللہ جل شانہ کی طرف سے آپ کے لئے مقرر ہے اگر اس کا زمانہ نزدیک ہو یا دور ہو سو میں آپ کے پیش آمدہ ملال سے گو پہلے غمگین تھا مگر آج خوش ہوں کیونکہ آپ کے مال کار کی بہتری کشفی طور پر معلوم ہوگئی۔واللہ اعلم بالصواب اس کشف کی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کوئی صراحت وقت یا نوعیت اقبال کی نہیں کی مگر اس میں ایک کلید بیان کی ہے جس کو واقعات نے صحیح ثابت کر دیا۔حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ کشفی طور پر مجھے معلوم ہوا کہ آپ میرے پاس موجود ہیں اور ایک دفعہ گردن اونچی ہوگئی۔اس کشف کی حقیقت اور ظہور اس وقت ہونے والا تھا جب نواب صاحب حضرت صاحب کے پاس ہوں یعنی وہ ہجرت کر کے قادیان آ جاویں۔جب یہ کشف ہوا اس وقت تک نواب صاحب مالیر کوٹلہ میں تھے اور اس کے بعد بھی نو سال تک وہ قادیان مقیم ہونے کیلئے نہیں آئے تھے اور جب آپ نے قادیان ہجرت کر لی اور جوار مسیح موعود بلکہ الدار میں آپ کو جگہ مل گئی اس وقت آپ صاحب اولاد تھے اور آپ کی اہلیہ موجود تھیں۔پھر ان کا انتقال ہو گیا اور آپ نے دوسری شادی کی اور بالآخر وہ بھی وفات پا گئی تب حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ زید مجد ہا کا آپ سے نکاح ہو گیا۔اور عملاً آپ کی گردن اونچی ہوگئی کیونکہ جماعت میں یہ مقام کسی کو حاصل نہ تھا۔اس کشف کی طرف دوستوں نے توجہ نہیں کی یہ کشف حضور کا اواخر دسمبر ۱۸۹۱ ء کا ہے اس وقت تک سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ عالم وجود میں بھی نہیں آئی تھیں بلکہ صرف حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ( امیر المومنین خلیفہ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ) عالم وجود میں آئے تھے۔اس وقت کوئی خیال نہ نواب صاحب کو ہوسکتا نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہ حالات اس قسم کے تھے اللہ تعالیٰ نے ایک زمانہ دراز پیشتر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کے اقبال کی بشارت دی۔جرات اور طلب حق حضرت نواب صاحب میں ایک فطری جوش طلب حق کا تھا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی جرات عطا فرمائی تھی کہ جو امران کی سمجھ میں نہ آتا تھا اس کے متعلق سوال کرنے سے کبھی مضائقہ نہ کرتے تھے چنانچہ جب عبد الحق غزنوی نے مباہلہ کا اشتہار دیا تو آپ کو بعض سوالات حضرت اقدس کے جواب پر