سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 630
630 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سب بچوں کو دین کا خادم بنائے۔اپنی والدہ صاحبہ اور دیگر متعلقین سے میری طرف سے تعزیت کر دینا۔گرامی گوهر و دل نواز راقم ( نواب ) محمد علی خاں آف مالیر کوٹلہ السلام علیکم و رحمتہ اللہ برکاتہ مکرم و محترمی صاحبزادہ میاں عبدالمنان صاحب کے تار سے اس حادثہ دل خراش و روح فرسا کی خبر مل گئی تھی جس کے اپنی زندگی میں واقع ہونے کا مجھے کبھی وہم بھی نہ گزرا تھا۔انا للہ وانا اليه راجعون میاں آپ کے والد اور مجموعہ اوصاف حمیدہ و محاسن پسند یدہ والد ماجد نے وفات پائی ہے۔ان کا بابرکت سایہ سر سے اٹھ جانا جتنا بھی موجب صدمہ واندوہ ہو کم ہے۔لیکن ان کی وفات کا صدمہ ان کی اولاد اور قریبی رشتہ داروں تک ہی محدود نہیں۔بلکہ تمام دنیا احمدیت اس صدمہ جانکاہ میں شریک ہے اور اس میں ایسے بھی تھوڑے نہیں جو یہ خیال کرتے ہوں گے کہ اس حادثہ ہولناک کا صدمہ سب سے بڑھ کر انہیں کو ہوا ہے۔بہت سے بچے اور نو جوان ان کی وفات سے یتیم اور بہت سی بیوہ خواتین دوبارہ بے سہارا ہوئی ہیں۔بہت سی مخلوق کو ایک بچے مربی ، بچے خیرہ خواہ اور بچے ہمدرد سے محروم ہونا پڑتا ہے۔بہن بھائی کا بے مثل بھائی، بھانجوں بھتیجوں اور بھانجیوں بھتیجیوں کا بے نظیر ماموں اور چا ان سے جدا ہوا ہے۔بالآخر یہ کہ سید نا امام الزمان سلمہ الرحمن کے عظیم المرتبت معتمد سے دنیا خالی ہوئی ہے۔کیا آپ نے ان سب کی بے چینی او غمگینی نہیں دیکھی اور کیا اپنے اور ہم سب کے آقا ومطاع ایدہ اللہ تعالیٰ کے صدمہ وقلق کا آپ نے اندازہ نہیں کیا۔حق یہ ہے کہ اس سانحہ عظیم کا سب سے بڑا اثر تو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہی کے دل حقایق منزل پر ہوسکتا ہے۔ہر شخص کا صدمہ اس کے تعلق مفاد اور معرفت کے لحاظ سے ہی ہوسکتا ہے۔مجھے الفضل کا یہ قول کہ ہم تو حضرت میر صاحب کی خوبیوں کو شمار بھی نہیں کر سکتے۔بہت اچھا اور بالکل برمحل معلوم ہوا ہے۔واقعی ہم ان کی خوبیوں کو شمار نہیں کر سکتے۔یہ کام بھی ہمارے مولا ہمارے آقا ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ہی کا ہے۔اس لحاظ سے بھی حضور ایدہ اللہ تعالیٰ پر اس سانحہ