سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 612 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 612

612 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ دو اور یہ نہ دیکھو کہ اس کے عوض تمہیں کیا ملتا ہے جو شخص یہ دیکھتا ہے کہ اسے کتنے پیسے ملتے ہیں۔وہ کبھی خدا تعالیٰ کی نصرت حاصل نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ کی نصرت اسی کو ملتی ہے جو اس کا نام لے کر سمندر میں کود پڑتا ہے۔چاہے موتی اس کے ہاتھ میں آجائے اور چاہے وہ مچھلیوں کی غذا بن جائے۔پس مومن کا کام عرفان کے سمندر میں غوطہ لگا دینا ہے وہ اس بات سے بے پرواہ ہوتا ہے کہ اسے موتی ملتے ہیں یا وہ مچھلیوں کی غذا بنتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سنت تھی کہ جب کبھی سلسلہ کے لئے غم کا کوئی موقع ہوتا آپ دوستوں سے فرماتے کہ دعائیں کرو اور استخارے کروتا اللہ تعالیٰ دلوں سے گھبراہٹ دور کر دے اور بشارات دیگر دلوں کو مضبوط کر دے۔پس آپ لوگ بھی آئندہ چند دنوں تک متواتر دعائیں کریں۔خصوصا آج کی رات بہت دعائیں کی جائیں کہ اگر جماعت کے لئے کوئی اور ابتلا مقدر ہوں تو اللہ تعالیٰ انہیں ٹال دے اور اگر تمہارا خیال غلط ہو تو دلوں سے دہشت کو دور کر دے اور اپنے فضل سے ایسی کچی بشارتیں عطا کرے کہ جن سے دل مضبوط ہوں اور کمز ور لوگ ٹھوکر سے بچ جائیں۔پس خوب دعائیں کرو اور اگر کسی کو خواب آئے تو بتائے۔خصوصاً صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد بہت دعائیں کریں۔(حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض صحابہ کے نام بھی لئے ) وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ پایا اور انہیں موقعہ ملا کہ وہ حضور علیہ السلام کی پاک صحبت میں رہے خاص طور پر میرے مخاطب ہیں۔وہ آج رات بھی اور آئندہ بھی بہت دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو ایسے واقعات اور ابتلا ؤں سے بچائے جو کمزوروں کے لئے ٹھوکر کا موجب ہو سکتے ہیں اور جن سے افسردگی پیدا ہوتی ہے کہ یہ دین کی فتح کے دن ہیں اور ان دنوں میں افسردگی نہیں ہونی چاہئے۔بلکہ دلوں میں ایسا عزم صمیم ہونا چاہئے کہ جس کے ماتحت دوست بڑھ بڑھ کر قربانیاں کر سکیں۔پس خوب دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ کمزور لوگوں کو ٹھوکر سے بچائے اور ایسی بشارات دے کہ جو دلوں کو مضبوط کر دیں اور اطمینان پیدا کریں ایسا اطمینان کہ جو پھر کبھی نہ چھینا جائے جماعت کو کوئی ایسا نقصان نہ ہو جو ارادوں کو پست کرنے اور ہمتوں کو توڑنے والا ہو اور اللہ تعالیٰ دلوں میں ایسی تبدیلی پیدا کرے کہ نوجوان خدمت دین کے لئے آگے آئیں اور اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے بڑھیں اور ایسی روح پیدا ہو کہ ہم اور ہماری اولادیں اللہ تعالیٰ کے نور پر