سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 608
608 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ تمہیدی نوٹ یاد داری که وقت زادن تو ہمہ خنداں بوند تو گریاں آنچناں زی کی وقت مردن تو ہمہ گریاں بوند تو خنداں سعدی علیہ الرحمہ نے انسانی زندگی کی عملی حالت کا نقشہ یوم پیدائش سے لے کر وفات تک کا بیان کر دیا ہے اور اس میں بتایا ہے کہ انسان کو دنیا میں اپنی زندگی کس طرح بسر کرنی چاہئے۔جو شخص اپنی زندگی میں خدا تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت اور بھلائی کا کام کرتا ہے اور خدمت خلق ہی اس کا نظام عمل بن جاتا ہے۔یقیناً اس کی موت ایک جماعت کو سوگوار بنا دیتی ہے۔حضرت میر محمد اسحق رضی اللہ عنہ ایک ایسے ہی بزرگ تھے کہ جن کی وفات کو جوانوں، بوڑھوں، عورتوں، بچوں، اپنوں، اور عزیزوں نے یکساں محسوس کیا اس لئے کہ ان کی زندگی کا نصب العین ایک ہی تھا کہ وہ ہر رنگ میں خدمتِ خلق کرنا جانتے تھے اور اس کے لئے ہر وقت بخنداں پیشانی تیار رہتے تھے اور یہ خیال تھا کہ اس خدمت کے لئے کسی شکر گزاری ستائش اور داد کے متمنی نہ ہوتے تھے۔میں نے میر محمد اسحق کا بچپن ان کی جوانی اور بڑھاپے کا زمانہ دیکھا۔میں نے زندگی کے مختلف مراحل میں سے اسے گزرتے ہوئے پایا مگر اسی جذ بہ کو ہر حالت میں کارفرما دیکھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ نے بڑے بڑے علماء اور اکابر کو پیدا کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فیض صحبت سے تربیت یافتہ بزرگوں کو مستی کر کے میں کہوں گا کہ اگر یہ سوال ہو کہ بلحاظ جامعیت ہم کس کو سر فہرست درج کریں تو میں بلا خوف تردید حضرت میر محمد الحق کا نام لکھ دوں گا میں اپنے اس دعوئی پر ایک تفصیلی اور مدلل مقالہ لکھ سکتا ہوں مگر سیرۃ اُم المؤمنین میں چند اوراق اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ چاہے گا تو آج نہیں کل کل نہیں پرسوں وہ حالات ہدیہ قارئین کرام ہو جائیں گے اس لئے کہ ایسے لوگوں کی زندگی موت کے پردے میں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ موت کے دروازہ سے داخل ہو کر ان کی غیر فانی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔حضرت میر محمد الحق صاحب رضی اللہ عنہ کی وفات پر احباب و بزرگان سلسلہ کے تاثرات کا سلسلہ بھی دراز ہے مگر میں صرف چند مضامین پر اکتفا کروں گا اور اس سے اندازہ ہو سکے گا کہ حضرت میر صاحب کا ہماری جماعت میں کیا مقام تھا اور وہ مقام محض ان کی اس قربانی اور ایثار کا نتیجہ تھا جو وہ سلسلہ