سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 601 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 601

601 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ان کی تدبیر کو معلوم کر لیا تھا اور اب ان کے دوستوں کے حلقوں میں اس امر پر گفتگو شروع ہو گئی تھی کہ خلیفہ کا کیا کام ہے۔اصل حاکم جماعت کا کون ہے۔صدرانجمن احمد یہ یا حضرت خلیفہ امسیح الاوّل مگر خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ مجھے اب بھی اس کا کچھ علم نہ تھا۔اب جماعت میں دو کیمپ ہو گئے تھے۔ایک اس کوشش میں تھا کہ لوگوں کو یقین دلایا جاوے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مقرر کردہ جانشین انجمن ہے اور دوسرا اس پر معترض تھا اور بیعت کے اقرار پر قائم تھا مگر حضرت خلیفہ مسیح الاول کو ان بحثوں کا کچھ علم ن تھا اور میں بھی ان سے بالکل بے خبر تھا۔حتی کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاؤل کے پاس میر محمد الحق صاحب نے کچھ سوالات لکھ کر پیش کئے جن میں خلافت کے متعلق روشنی ڈالنے کی درخواست کی گئی تھی۔ان سوالات کو حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے مولوی محمد علی صاحب کے پاس بھیج دیا کہ وہ ان کا جواب دیں۔مولوی محمد علی صاحب نے جو کچھ جواب دیا وہ حضرت خلیفہ اول کو حیرت میں ڈالنے والا تھا کیونکہ اس میں خلیفہ کی حیثیت کو ایسا گرا کر دکھایا گیا تھا کہ سوائے بیعت لینے کے اس کا کوئی تعلق جماعت سے باقی نہ رہتا تھا۔حضرت خلیفہ اول نے اس پر حکم دیا کہ ان سوالوں کی بہت سی نقلیں کر کے جماعت میں تقسیم کی جاویں اور لوگوں سے ان کے جواب طلب کئے جاویں اور ایک خاص تاریخ ۳۱ جنوری ۱۹۰۹ء مقرر کی کہ اس دن مختلف جماعتوں کے قائم مقام جمع ہو جاویں تا کہ سب سے مشورہ لیا جائے اس وقت تک بھی مجھے اس فتنہ کا علم نہ تھا حتی کہ مجھے ایک رؤیا ہوئی جس کا مضمون حسب ذیل ہے۔فتنہ کی اطلاع بذریعہ رویا میں نے دیکھا کہ ایک مکان ہے۔اس کے دوحصہ ہیں۔ایک حصہ تو مکمل ہے اور دوسرا نامکمل۔نامکمل حصہ پر چھت پڑ رہی ہے۔کڑیاں رکھی جا چکی ہیں مگر او پر تختیاں نہیں رکھی گئیں اور نہ مٹی ڈالی گئی ہے۔ان کڑیوں پر کچھ بھوسا پڑا ہے اور اس کے پاس میر محمد الحق صاحب میرے چھوٹے بھائی مرزا بشیر احمد صاحب اور ایک اور لڑکا جو حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کا رشتہ دار تھا اور جس کا نام نثار احمد تھا اور جواب فوت ہو چکا ہے۔(اللہ تعالیٰ اسے غریق رحمت کرے) کھڑے ہیں۔میر محمد اسحق صاحب کے ہاتھ میں دیا سلائی کی ایک ڈبیہ ہے اور وہ اس میں سے دیا