سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 600
600 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ تم کو پوری پوری اطاعت کرنی ہوگی اور اس تقریر کو سن کر ہم نے بیعت کی تو اب آقا کے اختیار مقرر کرنے کا حق غلاموں کو کب حاصل ہے۔میرے اس جواب کو سن کر خواجہ صاحب بات کا رخ بدل گئے اور گفتگو اسی پر ختم ہو گئی۔انہی ایام میں مولوی محمد علی صاحب کو بعض باتوں پر والدہ صاحبہ حضرت اُم المؤمنین سے بعض شکایات پیدا ہوئیں۔وہ بچی تھیں یا جھوٹی مگر مولوی صاحب کے دل میں وہ گھر کر گئیں اور آپ نے ان شکایتوں کا اشارہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں بھی ذکر کر دیا۔چونکہ خلافت کا مجھے مؤید دیکھا گیا۔اس لئے اس ذاتی بغض کی وجہ سے یہ خیال کر لیا گیا کہ یہ خلافت کا اس لئے قائل ہے کہ خود خلیفہ بننا چاہتا ہے۔پس خلافت کی مخالفت کے ساتھ ساتھ حضرت مسیح موعود کے خاندان خصوصاً میری مخالفت کو بھی ایک مدعائے خاص قرار دیا گیا اور ہمیشہ اس کے لئے ایسی تدبیریں ہوتی رہیں جن کے ذکر کرنے کی نہ یہاں گنجائش ہے نہ فائدہ۔اسی عرصہ میں جلسہ سالانہ کے دن آگئے جس کے لئے مولوی محمد علی صاحب کے احباب نے خاص طور پر مضامین تیار کئے اور یکے بعد دیگرے انہوں نے جماعت کو یہ سبق پڑھانا شروع کیا کہ خدا کے مامور کی مقررہ کردہ جانشین اور خلیفہ صدر انجمن احمد یہ ہے جس کے یہ لوگ ٹرسٹی ہیں اور اس کی اطاعت تمام جماعت کے لئے ضروری ہے مگر اس سبق کو اس قدر لوگوں کے مونہوں سے اور اس قدر مرتبہ دہرایا گیا کہ بعض لوگ اصل منشاء کو پاگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اصل غرض حضرت خلیفہ اول کو خلافت سے جواب دینا ہے اور اپنی خلافت کا قائم کرنا، صدر انجمن احمدیہ کے چودہ ممبروں (میں) سے قریباً آٹھ مولوی محمد علی صاحب کے خاص دوست تھے اور بعض اندھا دھند بعض حسن ظنی سے ان کی ہر ایک بات پر آمنا وصدقنا کہنے کے عادی تھے۔صدر انجمن احمدیہ کی خلافت سے مراد در حقیقت مولوی محمد علی صاحب کی خلافت تھی جو اس وقت بوجہ ایک منصوبہ کے اس کے نظم ونسق کے واحد مختار تھے۔بعض ضروری کاموں کی وجہ سے مجھے اس سال جلسہ سالانہ کے تمام لیکچروں میں شامل ہونے کا موقعہ نہ ملا اور جن میں شامل ہونے کا موقعہ ملا بھی۔ان کے سنتے وقت میری توجہ اس بات کی طرف نہیں پھری۔مگر جیسا کہ بعد کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے بعض لوگوں نے