سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 592 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 592

592 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ہاتھ میں لیتے تھے اس کو چار چاند لگا دیتے۔کام میں با قاعدگی ، ماتحت کارکنوں میں ضبط پیدا کر دیتے اور و بختی سے نہیں اپنے عمل سے کرتے تھے۔حدیث سے انہیں خاص شغف تھا اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کا نتیجہ تھا۔وہ احادیث کی شرح ایسے رنگ میں کرتے تھے کہ عہد حاضرہ کا بڑے سے بڑا نکتہ چیں بھی اس پر اعتراض نہ کر سکتا۔یتامی مساکین اور ضعیف العمر اور بیکسوں کے وہ آقا ومولیٰ تھے اور یہ چیز فطرتا ان کے حصہ میں آئی تھی۔سلسلہ کی اکثر ضروریات کو وہ دیکھتے اور ان کی آواز پر جماعت لبیک کہتی تھی اور فورا تعمیل کرتی۔مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے اغراض سلسلہ کے لئے کوئی تحریک کی ہو اور کامیاب نہ ہوئی ہو۔یہ محض ان کے اخلاص اور اعمال میں رضا اور عشق کا نتیجہ تھا وہ بے انتہا خو بیوں کے مالک تھے۔جماعت کی تنظیم، تبلیغ اور اس کے علمی مقام کو بلند اور ممتاز کرنے کا ان میں لہی جوش تھا اور اس مقصد کے لئے وہ ہمیشہ عملی رنگ اختیار کرتے تھے۔قرآن مجید کا درس ، حدیث کا درس، مجلس ارشاد کے ذریعہ مختلف مسائل پر تحقیقی لیکچر دلاتے رہتے تھے۔آریہ سماج کے پر چارکوں اور سکھوں کے مذہبی سیوکوں سے تبادلہ خیالات کے جلسہ کرتے اور نہایت امن اور آزادی اور سلامت روی کے ساتھ تبادلہ خیالات ہوتا۔ان کی ہر خوبی اور خدمت بجائے خود ایک مبسوط تالیف کی مقتضی ہے اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا اس کی توفیق دے گا۔سلسلہ کی خدمت میں انتہائی محنت اور شفقت نے ان کی صحت پر غیر معمولی اثر کیا۔باوجود بیماری کے متواتر اور شدید حملوں کے بھی وہ خدمت سلسلہ کے لئے کمر بستہ رہتے تھے ان کی زندگی سلسلہ کے ہر کارکن اور فرد کے لئے خضر راہ ہے۔بیماری کا ہر حملہ جانستان نظر آیا کرتا تھا اور فی الحقیقت جہاں تک طبی نقطہ نگاہ ہے وہ جانستان ہی ہوتا تھا لیکن ان کی علالت کا اعلان جماعت کے اہل دل اور عام افراد میں دعا کے لئے ایک غیر معمولی جوش پیدا کرتا تھا اور کچھ شک نہیں کہ وہ دعا ئیں تقدیر معلق کوٹلا دیتی تھیں اور جیسا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کی جان لینے کے وقت خدا تعالیٰ کو بھی تر ڈر ہوتا ہے۔فی الحقیقت یہی نظارہ حضرت میر صاحب کی علالت کے وقت نظر آتا تھا لیکن آخر بیماری کے متواتر حملوں میں آخری حملہ نے ان کی زندگی کو بظا ہر ختم کر دیا مگر در حقیقت موت کے دروازہ سے داخل ہو کر انہوں نے حیات ابدی حاصل کی ان کی بے ریا خدمات انہیں ہمیشہ