سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 556
556 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ آپ نے جھڑک دیا کہ میرے تو وہ خاوند تھے جب میں نہیں روتی تو تم رونے والی کون ہوں“۔غرضیکہ صبر و استقلال کا اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھایا۔۲۱ اگر چہ الفاظ اور اسلوب بیان میں کچھ فرق ہو مگر اس سارے واقعہ میں جو حقیقت نمایاں ہے وہ حضرت ام المؤمنین کی سیرۃ طیبہ کے بلند مقام کی راہ نمائی کرتی ہے۔حضرت اُم المؤمنین کی سیرہ مطہرہ کچھ شبہ نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قوت قدسی کا ایک ثبوت ہے۔مگر قرآن مجید کی نص صریح حضرت اُم المؤمنین کی ذاتی طہارت اور طیب زندگی کو بھی ثابت کر رہی ہے۔جیسا کہ اللہ کریم نے فرمایا الطیبات للطیبین۔پھر اس المیہ کے وقت حضرت اُم المؤمنین کی تمام تر توجہ اللہ تعالیٰ کی ہی طرف تھی وہ اللہ تعالیٰ کی قوتوں اور صفات پر ایمان رکھتی تھیں اور آخری اور پہلا علاج ہر مصیبت کا یہی سمجھتی تھیں اور سمجھتی ہیں کہ خدا تعالیٰ سے دعا کی جاوے چنانچہ اس سارے وقت کو آپ نے دعاؤں میں گزارا اور بالآخر جب آپ نے دیکھا کہ قضائے الہی نافذ ہو چکی ہے تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے وہ دعا کی جو اپنے اندر مُردہ دلوں میں زندگی پیدا کرنے کا اثر رکھتی ہے اور ہموم و غموم کی شب تار میں روشنی کا منار بن جاتی ہے۔د, پیارے خدا یہ تو ہمیں چھوڑتے ہیں مگر تو نہ چھوڑی۔میں ہر صاحب دل اور قرآن کریم کے اس اصول پر امن يجيب المضطر اذا دعاه (وه مضطر کی دعا سننے والا کون ہے ) یعنی اضطرار میں خشوع و خضوع سے جو دعا کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے واقعہ نے ایک خاص کیفیت حضرت سیدہ پر طاری کر دی تھی اور اس حالت کرب و اضطراب میں اپنے پیارے خدا کو پکارا۔کہ تو ہم کو نہ چھوڑ یو۔کیا یہ دعارڈ ہو سکتی ہے؟ اس دعا کے الفاظ خدا کے فرشتے قبولیت کے لئے بارگاہ رب العزت میں عزت و احترام سے لے جا رہے تھے اور آسمان زمین کے قریب ہو گیا تھا اور خدا تعالیٰ کا وہ مبشر وعدہ جو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کیا تھا انی معک و مع اهلک میں تیرے اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں ان الفاظ میں جھلک رہا تھا اور بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ خدا کی محبت کا ثبوت ہر آن ہوتا رہتا ہے۔افسوس اس ناداں پر جو اس کے بعد بھی کہتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اہل