سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 555
555 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ پیدا کیا تا کہ تم کو آزمائے کہ کون تم میں سے اچھے اعمال بجالاتا ہے۔حیات پر بھی انسان بعض وقت نازاں ہو کر نخوت و غرور کی لہروں میں بہہ جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے انعامات کا شکر کرنے کی بجائے اس سے دور چلا جاتا ہے اور موت کے وقت بجائے صبر اور رضا بالقضا کے جزع فزع کرتا اور ایسے نا گفتنی الفاظ کہہ اُٹھتا اور ایسے حرکات بے صبری میں ظاہر کر دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے غضب کا موجب ہو جاتے ہیں۔پس موت بجائے خود انسان کے امتحان اور آزمائش کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔اب غور کرو کہ حضرت اُم المؤمنین پر وہ حادثہ گزرا جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے بہت بڑا تھا اور خود اللہ تعالیٰ کی اس وحی میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اُتری اسے بھی تو بھاری فرمایا گیا ہے۔ایسے حادثہ کے وقت کمزور انسان اس وقت تک خدا کی مشیت سے صلح نہیں کر سکتا جب تک خود اللہ تعالیٰ کے فضل ورحم نے اس کے قلب کو پاک نہ کر دیا ہو اور اس کی محبت اس کا بغض محض اللہ ہی کے لئے نہ ہو گیا ہو۔اب ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کے الفاظ میں اس ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کے الفاظ میں جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذریت طیبہ اور اہل بیت کے خلاف لکھنے کے لئے اپنے زور قلم کو ختم کر دیا ہو۔سنو! چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔" حضرت اقدس کی زوجہ محترمہ نے اس وقت صبر جمیل کا وہ اعلیٰ نمونہ دکھایا کہ جس سے حضرت اقدس کی قوت قدسی کا پتہ لگتا ہے حضرت کی بیماری کے دوران میں آپ برابر چار پائی کے پاس برقع اوڑھے بیٹھی رہیں اور دعا کرتی رہیں اور کبھی سجدہ میں گر جاتیں اور بار بار یہی کہتی تھیں کہ اے جی و قیوم خدا، اے میرے پیارے خدا، اے قادر مطلق خدا، اے مُردوں کو زندہ کرنے والے خدا تو ہماری مدد کر۔اے وحدہ لاشریک خدا میرے گناہوں کو بخش میں گہنگار ہوں۔اے میرے مولیٰ میری زندگی بھی ان کو دے دے۔میری زندگی کس کام کی ہے یہ تو دین کی خدمت کرتے ہیں۔بار ہا آپ کی زبان پر یہی کلمات تھے اور آخر جب حالت بالکل نازک ہو گئی تو فرمایا کہ: اے پیارے خدا یہ تو ہمیں چھوڑتے ہیں مگر تو نہ ہمیں چھوڑ یؤ اور حضرت اقدس کی وفات پر آپ نے کسی قسم کا جزع فزع نہیں فرمایا اور جب دیگر مستورات نے رونا شروع کیا تو