سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 549
549 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ایسا ہی کر۔آمین والسلام ( ام محمود ) کلا آپ کے وجود کو میں تو مجموعہ برکات و آیات یقین کرتا ہوں ان آیات میں سے آپ کی درازی عمر بھی ہے جو حضرت مصلح موعود کے ظہور اور دعویٰ کے لئے ایک حجت نیرہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مصلح موعود کی پیشگوئی بالاتفاق ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں کی۔گواب منکرین مختلف قسم کے شبہات پیدا کرنے کی سعی نا کام کرتے ہیں۔مجھے یہاں مصلح موعود کی صداقت کے دلائل بیان نہیں کرنا ہے بلکہ حضرت اُم المؤمنین کی سیرت کے ساتھ اس کا جو تعلق ہے اسے ظاہر کرنا ہے اس لئے کہ مصلح موعود کی صداقت پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور لکھا جائے گا اور خاکسار کے زیر نظر بھی ایک تالیف ہے۔حضرت مصلح موعود کے متعلق جو اعلان ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کو شائع ہوا تھا اس کے متعلق یہ امر تو ثابت شدہ ہے کہ وہ دولڑکوں کی پیدائش کے متعلق تھا جن میں سے ایک اپنی صغیرسنی میں فوت ہو کر ایک نشان بنے والا تھا اور دوسرا اولوالعزم مصلح موعود جس کا ظہور اپنے وقت پر ہونے والا تھا۔اس مصلح موعود کے متعدد نام خدا کی وحی میں آئے ہیں اور جوں جوں اس کے ظہور کا زمانہ قریب آتا گیا۔اللہ تعالیٰ نے مصلح موعود کے ناموں اور اس کے ذاتی کاموں کی صراحت مختلف اوقات میں فرمائی مگر اسی رنگ میں اور اسی اصل پر جو خدا تعالیٰ نے پیشگوئیوں کے متعلق مقرر کر رکھا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام شروع سے اس امر کے منتظر رہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فلق الصبح کی طرح بشارت ملے تو آپ مصلح موعود کا اعلان فرما دیں۔گو آپ مختلف رنگوں میں آنے والے مصلح موعود کو نا مزد کرتے رہے جیسا کہ رسالہ مصلح موعود میں اس کی صراحت آئے گی۔بالآخر جون ۱۹۰۶ ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کو مصلح موعود کے صفاتی اسماء کے متعلق وحی ہوئی اور وہ حسب ذیل ہے : وو ” بذریعہ الہام الہی معلوم ہوا کہ میاں منظور محمد صاحب کے گھر میں یعنی محمدی بیگم کا ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کے دو نام ہوں گے۔(۱) بشیر الدولہ (۲) عالم کباب وو ( ) ” یہ ہر دو نام بذریعہ الہام الہی معلوم ہوئے اور ان کی تعبیر اور تفہیم یہ ہے: (1) " بشیر الدولہ سے یہ مراد ہے کہ وہ ہماری دولت اور اقبال کے لئے بشارت