سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 537
537 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ نام لکھ دوں حضرت اُم المؤمنین نے فرمایا۔آپ جو چاہیں یہ روایت با معنی ہے اگر آپ کے دل کے کسی گوشہ میں بھی یہ بات ہوتی تو آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے صاف کہہ دیتیں کہ ہاں ضرور ایسا ہی کہہ دو مگر نہیں آپ کے قلب میں تو خدا کی رضا کا قبضہ تھا وہ اس سلسلہ کو خدا کا سلسلہ یقین کرتی تھیں اور جو بھی جانشین ہواس کو تسلیم کرنے کو تیار تھیں اور اپنے عمل سے ثابت کیا اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے بارہا اس اخلاص اور عقیدت و احترام کا ذکر فرمایا جو حضرت اُم المؤمنین کو خلافت کے منصب کا ہے۔بقیہ حاشیہ: یہ کام ہو چکا اسٹیشن ماسٹر آیا کہ جنازہ نہیں جاسکتا۔شیخ رحمت اللہ صاحب مع اسٹیشن ماسٹر ٹریفک سپرنٹنڈنٹ کے پاس گئے اور ٹریفکیٹ دکھلایا جس کو دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔کیونکہ یہ سول سرجن کا سر ٹیفکیٹ تھا۔کیونکہ کسی مخالف نے ٹریفک سپرنٹنڈنٹ سے کہہ دیا کہ ان کے گھر کے ڈاکٹر ہیں۔انہوں نے اسے آپ سر ٹیفکیٹ لکھ دیا ہے۔ورنہ حضرت اقدس نے ہیضہ سے انتقال کیا ہے۔اس لئے جنازہ نہ جانا چاہئے۔اب جب سول سرجن کا سرٹیفکیٹ دیکھا تو ٹریفک سپرنٹنڈنٹ نے اجازت دے دی۔اس طرح شیطانوں کے تمام منصوبے باطل ہو گئے۔خلاصہ یہ کہ ریل ساڑھے پانچ بجے روانہ ہوئی۔اور ہم سب نے بخیر و خوبی امرتسر میں نماز پڑھی اور کھانا کھایا۔اور پھر وہاں سے چل کر دس بجے بٹالہ پہنچے۔رات بٹالہ بسر کی۔حضرت اقدس کا جسم مبارک صبح دو بجے صندق سے نکال کر چار پائی پر رکھا۔اور کثیر جماعت احمدیوں کی ہاتھوں ہاتھ جنازہ قادیان کو لیکر چلی۔صندوق اور برف گڈے پر پیچھے آتا رہا۔۲۷ مئی ۱۹۰۸ ء بدھ اس کے بعد کوئی چار بجے مستورات روانہ ہو ئیں اور ہم بھی نماز پڑھ کر روانہ ہوئے۔کوئی آٹھ بجے جنازہ اور ہم سب قادیان میں پہنچے۔جنازہ باغ میں لا کر بڑے مکان میں رکھا گیا۔پل سے جماعت قادیان بھی آ شامل ہوئی۔کوئی نو بجے مستورات بھی آ گئیں۔ہم ان کو پہنچا کر واپس آئے۔ا کا بر سلسلہ احمدیہ مثل خواجہ کمال الدین، شیخ رحمت اللہ ، ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب، ڈاکٹر یعقوب بیگ،مولوی محمد علی میرے مکان پر ا کٹھے ہوئے۔میں بھی حاضر تھا اور میاں محمود کو بھی تکلیف دی گئی۔خلیفہ کے متعلق مشورہ ہوا۔سب نے بالا تفاق حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب کو خلیفہ تجویز کیا اور میاں محمود صاحب نے بھی کشادہ پیشانی سے اس پر رضا مندی ظاہر کی۔بلکہ کہا کہ حضرت مولانا سے بڑھ کر کوئی نہیں اور خلیفہ ضرور ہونا چاہئے اور حضرت مولانا خلیفہ ہونے چاہئیں۔ورنہ اختلاف کا اندیشہ ہے۔اور حضرت کا ایک الہام ہے کہ اسی جماعت کے دوگروہ ہوں گے ایک کی طرف خدا ہو گا اور یہ پھوٹ کا ثمرہ ہے۔اس کے بعد ہم سب باغ گئے اور وہاں میر ناصر نواب صاحب سے دریافت کیا۔انہوں نے بھی حضرت مولانا کا خلیفہ ہونا پسند کیا۔پھر خواجہ کمال الدین صاحب جماعت کی طرف سے