سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 496 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 496

496 بسم الله الرحمن الرحيم سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ (۱۶) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب تمہارے تایا ( مرز اغلام قادر صاحب یعنی حضرت صاحب کے بڑے بھائی ) لا ولد فوت ہو گئے تو تمہاری تائی حضرت صاحب کے پاس روئیں اور کہا کہ اپنے بھائی کی جائیداد سلطان احمد کے نام بطور متبنی کے کرا دو۔وہ ویسے بھی اب تمہاری ہے اور اس طرح بھی تمہاری رہے گی۔چنانچہ حضرت صاحب نے تمہارے تایا صاحب کی تمام جائیداد مرزا سلطان احمد کے نام کرادی۔خاکسار نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ حضرت صاحب نے متبنی کی صورت کس طرح منظور فرمالی؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا۔یہ تو یونہی ایک بات تھی۔ورنہ وفات کے بعد متبنی کیسا۔مطلب تو یہ تھا کہ تمہاری تائی کی خوشی کے لئے حضرت نے تمہارے تایا کی جائیداد مرزا سلطان احمد کے نام داخل خارج کر دی اور اپنے نام نہیں کرائی۔کیونکہ اس وقت کے حالات کے تحت ویسے بھی مرزا سلطان احمد کو آپ کی جائیداد سے نصف حصہ جانا تھا اور باقی نصف مرز افضل احمد کو۔پس آپ نے سمجھ لیا کہ گویا آپ نے اپنی زندگی میں ہی مرزا سلطان احمد کا حصہ الگ کر دیا۔بسم الله الرحمن الرحيم (۱۷) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب مرز افضل احمد فوت ہوا تو اس کے کچھ عرصہ بعد حضرت صاحب نے مجھے فرمایا کہ تمہاری اولاد کے ساتھ جائیداد کا حصہ بٹانے والا ایک فضل احمد ہی تھا۔سو وہ بیچارہ بھی گزر گیا۔بسم الله الرحمن الرحيم (۱۸) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ اوائل میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سخت دورہ پڑا۔کسی نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد کو بھی اطلاع دے دی اور وہ دونوں آ گئے۔پھر ان کے سامنے بھی حضرت صاحب کو دورہ پڑا۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔اس وقت میں نے دیکھا کہ مرزا سلطان احمد تو آپ کی چارپائی کے پاس خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہے مگر مرزا فضل احمد کے چہرہ پر ایک رنگ آتا تھا اور ایک جاتا تھا اور وہ کبھی ادھر بھاگتا تھا اور کبھی اُدھر کبھی اپنی پگڑی اُتار کر حضرت صاحب کی ٹانگوں کو باندھتا تھا اور کبھی پاؤں دبانے لگ جا تا تھا اور گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ کانپتے تھے۔