سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 494 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 494

494 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ پیدا ہو۔چنانچہ وہ منگل گزرنے کے بعد بدھ کی رات کو پیدا ہوئیں۔بسم الله الرحمن الرحيم ۱۰۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ ہماری جماعت میں تین قسم کے لوگ ہیں ایک تو وہ ہیں جن کو دنیوی شان وشوکت کا خیال ہے کہ محکمے ہوں دفاتر ہوں بڑی بڑی عمارتیں ہوں وغیرہ وغیرہ۔دوسرے وہ ہیں جو کسی بڑے آدمی مثلاً مولوی نورالدین صاحب کے اثر کے نیچے آ کر جماعت میں داخل ہو گئے ہیں اور انہی کے ساتھ وابستہ ہیں۔تیسری قسم کے وہ لوگ ہیں جن کو خاص میری ذات سے تعلق ہے اور وہ ہر بات میں میری رضا اور میری خوشی کو مقدم رکھتے ہیں۔بسم الله الرحمن الرحيم ! ۱۱۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذکر فرمایا کہ ایک دفعہ میں کسی مقدمہ کی پیروی کے لئے گیا۔عدالت میں اور اور مقدمے ہوتے رہے اور میں باہر ایک درخت کے نیچے انتظار کرتا رہا۔چونکہ نماز کا وقت ہو گیا تھا اس لئے میں نے وہیں نماز پڑھنا شروع کر دی۔مگر نماز کے دوران میں ہی عدالت سے مجھے آواز میں پڑنی شروع ہو گئیں۔مگر میں نماز پڑھتا رہا۔جب میں نماز سے فارغ ہوا تو میں نے دیکھا کہ میرے پاس عدالت کا بیرا کھڑا ہے۔سلام پھیرتے ہی اس نے مجھے کہا مرزا صاحب مبارک ہو آپ مقدمہ جیت گئے ہیں۔بسم الله الرحمن الرحيم ۱۲۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جوانی کا ذکر فرمایا کرتے تھے کہ اس زمانہ میں مجھ کو معلوم ہوا یا فرمایا اشارہ ہوا کہ اس راہ میں ترقی کرنے کیلئے روزے رکھنے بھی ضروری ہیں۔فرماتے تھے۔پھر میں نے چھ ماہ لگا تارروزے رکھے اور گھر میں یا باہر کسی شخص کو معلوم نہ تھا کہ میں روزہ رکھتا ہوں۔صبح کا کھانا جب گھر سے آتا تھا تو میں کسی حاجت مند کو دیتا تھا اور شام کا خود کھا لیتا تھا۔میں نے حضرت والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ آخر عمر میں بھی آپ نفلی روزے رکھتے تھے یا نہیں ؟ والدہ صاحبہ نے کہا کہ آخر عمر میں بھی آپ روزہ رکھا کرتے تھے۔خصوصاً شوال کے چھ روزے التزام کے ساتھ رکھتے تھے اور جب کبھی آپ کو کسی خاص کام کے متعلق دعا کرنا ہوتی تھی تو