سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 466 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 466

466 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سامنے رکھ کر مجھے کھانے کو کہا جو میں شرماتے شرماتے کھا پی گیا۔اس کے بعد میں چند منٹ بیٹھا اور حضور کی خدمت میں اپنی ہمشیرہ محترمہ کی طرف سے سلام عرض کیا اور کچھ نذرانہ پیش کیا اور درخواست دعا کر کے رخصت ہوا۔یہ تمیں چونتیس سال کے قریب کا واقعہ مجھے واضح خواب کی طرح ابھی تک یاد ہے اور گو بظاہر معمولی لیکن میری قلبی کیفیت اس کے بیان کرنے سے قاصر ہے۔کیونکہ اس کا جو گہرا اثر میرے دل و دماغ پر اس وقت ہوا بیان سے باہر ہے۔باوجود ایک دیہاتی اور اجنبی ہونے کے میں یہی سمجھا کہ میری نہایت عزیز ترین بزرگ ماں اور حقیقی رشتہ دار ہیں اور اس خیال واثر نے مجھے اس کے بعد ہوش سنبھالنے پر قادیان کی تعلیم ور ہائش کا شوق دلایا۔اور اپنی والدہ مرحومہ کی وفات پر قادیان چلا آیا اور یہیں تعلیم و تربیت حاصل کی۔اب اس گھر کو میں اپنے گھر کی بجائے سمجھتا رہا اور بے تکلف اندر آتا جاتا رہا۔یہاں تک کہ چند سال بعد حضرت نانی اماں مرحومہ رضی اللہ عنہا نے اس طرح بے دھڑک اندر آنے جانے سے روک دیا۔ان دنوں کا بھی ایک لطیفہ ہے کہ حضرت اماں جان مدظلہ العالیٰ کے ہاں ایک پوتا (صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب سلمہ اللہ ) پیدا ہوا تو میں چونکہ اندر آتا جاتا تھا ایک صبح کو گیا تو انہوں نے یہ بچہ اُٹھایا ہوا تھا۔مجھے فرمایا کہ لڑکے کو ذرا باہر لے جاؤ باہر سے حضور کی مراد غالباً دوسرا صحن یا کچھ ایسا ہی تھا لیکن میں باہر مکان سے باہر سمجھا اور ننھے معصوم بچے کو اُٹھائے ہوئے خوش خوش سیدھا باہر باغ میں جا پہنچا اور ٹھنڈی ہوا کھلا کر جب واپس آنے کو لوٹا تو ایک بزرگ ( جناب پیر افتخار احمد صاحب) کو دیکھا کہ ہانپتے کانپتے بھاگے چلے آرہے ہیں۔مجھے دیکھ کر انہیں اطمینان سا معلوم ہوا اور کہا کہ تم بچے کو کہاں لئے پھرتے ہو جلدی لاؤ۔سب جگہ تلاش ہو رہی ہے۔یہ سن کر میں جلدی سے ان کے ساتھ ہو لیا اور واپس لے آیا۔ہوا یہ کہ جب میں بچے کو باہر باغ کی طرف لے آیا تو تھوڑی دیر بعد دیکھا بھالا تو میری تلاش شروع ہوئی۔کئی عورتیں مرد جو بھی ملا ادھر اُدھر قصبہ کے چاروں طرف دوڑائے گئے کہ ڈھونڈ لائیں آخر پیر صاحب مکرم میری تلاش میں کامیاب ہو گئے اور میں جب ہراساں و پریشان اندر گیا اور دل میں ڈر رہا تھا کہ دیکھئے کیا گت بنتی ہے تو حضرت اُم المؤمنین مدظلہ العالی کو دیکھتے ہی اطمینان و خوشی ہوئی۔بجائے اظہار ناراضگی یا ڈانٹ ڈپٹ کے وہ بے تحاشا کھل کھلا کر ہنس پڑیں کہ اسے اتنی دور کہاں لے گئے تھے۔