سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 465
465 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بعض بچوں کے تأثرات حضرت ام المؤمنین کی سیرۃ کے متعلق میں نے صحابہ اور صحابیات حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام اور ان خادمات کے مشاہدات اور تاثرات کو بیان کیا ہے جن کو حضرت سیدہ کی خدمت میں رہنے کا موقع ملا۔اب میں بعض بچوں کے تاثرات کو بیان کرتا ہوں جن کو حضرت اُم المؤمنین کی خدمت میں بغرض زیارت حاضر ہونے کا کوئی نہ کوئی موقعہ ملا۔یا کسی اور وقت پر انہیں حضرت سیدہ کی سیرۃ کے بعض پہلوؤں کے مشاہدہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ارشد قریشی کے تأثرات مکرمی قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل کے نسبتی بھائی ارشد قریشی بچپن ہی میں قادیان آ گئے تھے اور ان کی تعلیم یہاں ہی ہوئی۔بعد تعلیم وہ سلسلہ کے مختلف صیغوں میں کام کرتے رہے اور اس وقت دعوت و تبلیغ میں کا رکن ہیں۔وہ بیان کرتے ہیں کہ : حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی خلافت کا پہلا سالانہ جلسہ تھا (۱۹۰۹ء) کہ مجھے قادیان کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔برادر محترم قاضی اکمل صاحب ان دنوں اخبار بدر میں کام کرتے تھے اور ایام جلسہ میں دفتر اخبار بدر کی کوٹھری میں ہی فروکش ہوا۔انہیں ایام کی ایک شام کو بھائی صاحب مکرم نے مجھے ایک نوجوان ( حضرت میر محمد الحق صاحب ( رضی اللہ عنہ کے سپر د کیا کہ میاں اسے حضرت اماں جان (ائم المؤمنین مدظلہ العالی ) کی خدمت میں لے جاؤ۔یہ صاحب مجھے مسجد مبارک کی اندرونی سیڑھیوں سے ہوتے ہوئے دارا امیج میں لے گئے اور ایک صحن سے گزر کر ایک بڑے کمرے میں داخل ہوئے جس میں فرش بچھا ہوا تھا اور ایک کونے میں چھوٹی میز پر شمع موم بتی ) روشن تھی۔یہاں پر ایک نہایت با وقار پُر رعب و جلال معزز خاتون ایستادہ تھیں۔مجھے اشارہ کیا کہ یہ حضرت اماں جان ہیں۔میں جھک کر کے آداب بجالایا اور سلام کیا۔آپ نے میرے سر پر دست شفقت پھیرا اور خود ساتھ کے کمرے سے ایک کرسی اٹھا لائیں اور اس چھوٹے میز کے پاس مجھے بیٹھنے کو کہا۔میں نے تعمیل ارشاد کی تو وہ خود جا کر ایک پیالی میں دودھ یا چائے لائیں اور ایک پرچ میں کچھ بسکٹ میرے