سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 461 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 461

461 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کھانے پینے کا خود ہی خیال رکھنا دوسری عورتوں پر نہ چھوڑ نا آپ کا طریق ہے بلکہ اتنا پیار آپ ان سے فرماتی ہیں کہ وہ اکثر بہت سر چڑھ جاتی ہیں۔آپ کا معیار عصمت عام نقطۂ نظر سے بہت ہی بلند ہے۔یہ ایک خصوصیت آپ کے اخلاق کی مدنظر رکھنے کے قابل ہے۔عورت کی عزت کے بے حد نازک ہونے کے متعلق اکثر نصیحت فرماتی ہیں۔عورتوں کا بھی آپس میں زیادہ بے تکلف ہونا یا فضول مذاق وغیرہ آپ کو بے حد گراں گزرتا اور نا پسند ہے جو بیوی اپنے شوہر سے زیادہ محبت کرے اس کے ذکر سے خوش ہوتیں اور پسندیدگی کا اظہار فرماتی ہیں۔شکوہ اور چغلی سے آپ کو از حد نفرت اور چڑ ہے نہ سننا پسند کرتی ہیں نہ خود کبھی کسی کا شکوہ کرتی ہیں۔اس معاملہ میں آپ کا وقار بہت بلند درجہ ہے کہ کبھی شکوہ کرنا یا کسی کی جانب سے تکلیف پہنچے تو اس کا اظہار کرنا پسند نہیں فرماتیں نہ یہ پسند فرماتی ہیں کہ کوئی دوسرا اس کو محسوس کر کے آپ کے سامنے اس کے جاننے تک کا اظہار کرے۔مرضی کے خلاف بات کو اکثر سنی ان سنی کر دیتی ہیں اور یہ نہیں پسند فرماتیں کہ وہ ذکر زبانوں پر آئے یا کسی کی جانب سے گستاخانہ یا خلاف بات کا آپ کے علم میں آجانا ہم لوگوں تک پر ظا ہر ہو۔گل احمد یہ جماعت سے آپ کی کچی مادرانہ محبت بھی ایک خصوصیت سے قابل ذکر چیز ہے۔آپ کو خدا نے یونہی ماں نہیں بنایا بلکہ میں دیکھتی ہوں کہ ایک ماں کی تڑپ بھی ہر فرد کے لئے آپ کے دل میں بے حد رکھ دی ہے۔عام جماعت کے لئے خاص افراد کے لئے خصوصا مبلغین کے لئے بہت التزام سے دعا ئیں فرماتی ہیں اور تڑپ سے فرماتی ہیں بعض دفعہ کسی کا ڈاک میں خط آتا ہے تو ایسی تڑپ سے بآواز بلند اس کے لئے دعا فرماتی ہیں کہ پاس بیٹھنے والوں کے دل میں بھی حرکت پیدا ہو جائے۔میں نے بھی اکثر صرف حضرت والدہ صاحبہ کے نام خط پڑھ کر اور آپ کی تڑپ دیکھ کر بہت لوگوں کے لئے دعا کی ہے۔کیونکہ اکثر خط آپ کو سنانے پڑتے ہیں۔صرف لکھنے والوں پر موقوف نہیں بعض دفعہ میں نے دیکھا ہے کہ وہ جنہوں نے کبھی خاص تعلق حضرت والدہ صاحبہ سے ظاہر نہیں رکھا ان کے لئے بیٹھے بیٹھائے خیال آ گیا ہے اور آپ پھڑک پھڑک کر دعا فرما رہی ہیں۔(اکثر پرائیویٹ مجالس میں ) بہ آواز بلند خدا کو پکارنے اور بہ آواز دعا کرنے کی آپ کی عادت ہے۔استغفار بہت کثرت سے فرماتی ہیں۔