سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 460 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 460

460 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ دکھائے اور مجھے پہلے اٹھائے۔یہ سن کر حضرت نے فرمایا ” اور میں ہمیشہ یہ دعا کرتا ہوں کہ تم میرے بعد زندہ رہوا ور میں تم کو سلامت چھوڑ کر جاؤں۔ان الفاظ پر غور کریں اور اس محبت کا اندازہ کریں جو حضرت مسیح موعود آپ سے فرماتے تھے۔حضرت مسیح موعود کے بعد ایک بہت بڑی تبدیلی آپ میں واقع ہوئی پھر میں نے آپ کو پُر سکون ،مطمئن اور بالکل خاموش نہیں دیکھا۔ایک بے قراری اور گھبراہٹ سی آپ کے مزاج میں باوجود انتہائی صبر اور ہم لوگوں کی دلداری کے خیال کے پیدا ہوگئی جو آج تک نہیں گئی یہ معلوم ہوتا ہے اس دن سے کہ آپ دنیا میں ہیں بھی مگر نہیں بھی اور ایک بے چینی سی ہر وقت لاحق ہے۔جیسے کسی کا کچھ کھو گیا ہو اس سے زیادہ میں اس کیفیت کی تفصیل نہیں بیان کر سکتی۔آپ کی خاص صفات یہ ہیں کہ آپ بے انتہا صابرہ ہیں اور پھر شاکرہ ہر وقت کلمات شکر الہی آپ کی زبان پر جاری رہتے ہیں۔دعاؤں کی آپ بہت ہی عادی ہیں گوفرماتی ہیں کہ اب اس زور کی دعا کمزوری کے سبب سے مجھ سے نہیں ہو سکتی جس میں میری طاقت بہت خرچ ہوتی تھی۔نماز آپ بے حد خشوع و خضوع سے ادا فرماتی ہیں اس کمزوری کے عالم میں آپ کے سجدوں کی طوالت دیکھ کر بعض وقت اپنی حالت پر سخت افسوس اور شرم معلوم ہوتی ہے۔غریبوں کے لئے خاص طور پر دل سے تڑپ رکھتی ہیں ہر وقت کسی کو مدد پہنچانے کا آپ کو خیال رہتا ہے۔خیرات میں آپ کا ہاتھ کسی کی حالت سنتے ہی سب سے اول بڑھتا ہے۔اپنے نوکروں پر خاص شفقت فرماتی ہیں اگر کسی مزاج دار خادمہ کے تنگ کر دینے پر کبھی کچھ سخت کہتی بھی ہیں تو میں نے دیکھا کہ جب تک اس کو پھر خوش نہ کر لیں زبان سے بھی اور کچھ دے دلا کر بھی آپ کو خود آرام نہیں ملتا۔ان کے آرام کا بہت خیال رکھتی ہیں ہم لوگ بھی اگر دو تین بارا و پر تلے کوئی کام کہہ دیں تو فرماتی ہیں کہ بس اب وہ تھک گئی ہے اس بچاری میں اتنی طاقت کہاں ہے وغیرہ۔اس عمر میں اس وقت تک بھی کسی پر اپنا بار نہیں ڈالتیں۔خادموں کو بھی تکلیف نہیں دیتیں۔اپنے ہاتھ سے ہی زیادہ تر کام کرتی ہیں۔بار بار اس حال میں کہ ضعف سے ٹانگیں کانپ رہی ہوتی ہیں خود کرسی پر چڑھ کر حجرہ ( کمرہ کا نام ہے) میں جا کر جو چیز نکالنی ہو لاتی ہیں۔اگر بہت روکا جائے تو دوسرے کو پھر بہ مشکل تکلیف دیتی ہیں۔(خادمہ) چھوٹی لڑکیوں کو بیٹی کہہ کر پکارنا ان کے کپڑوں اور