سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 450
450 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ایسا مالک اور ایسے اہلِ بیت ہیں۔میرا اعتقاد ہے کہ شوہر کے نیک و بد اور اس کے مکار و فریبی ، یا راستبازا اور متقی ہونے سے عورت خوب آگاہ ہوتی ہے۔در حقیقت خلا ملا کے رفیق سے کون سی بات مخفی رہ سکتی ہے۔میں ہمیشہ سے رسول کریم ﷺ کی نبوت میں بڑی مستحکم دلیل سمجھا اور ما نا بھی کرتا ہوں۔آپ کے ہم عمر اور محرم راز دوستوں اور ازواج مطہرات کے آپ پر صدق دل سے ایمان لانے اور اس پر آپ کی زندگی میں موت کے بعد پورے ثبات اور وفاداری سے قائم رہنے کو صحابہ کو ایسی تامہ اور کامل زیر کی بخشی گئی تھی کہ وہ اس محمد میں جو اَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم کہتا اور اس محمد ﷺ میں جو انسی رَسُولُ اللهِ اليكُمُ جميعًا کہتا صاف تمیز کرتے۔وہ بے غش اخوان الصتفاء اور آپ کی بیبیاں جیسے اس محمد سے جو بشر محض ہے۔ایک وقت انبساط اور بے تکلفی سے گفتگو کرتے اور کبھی کبھی معمولی کاروبار کے معاملات میں پس و پیش اور ر دو قدح بھی کرتے ہیں اور ایک وقت ایسے اختلاط اور موانست کی باتیں کر رہی ہیں کہ کوئی حجاب حشمت اور پردہ تکلف درمیان نہیں۔وہی دوسرے وقت محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے مقابل یوں سرنگوں اور مقارب بیٹھے ہیں۔گویا لٹھے ہیں جن پر پرندے بھی بے باکی سے گھونسلا بنا لیتے ہیں اور تقدم اور رفع صوت کو آپ کے حضور میں حبط اعمال کا موجب جانتے اور ایسے مطبع و منقاد ہیں کہ اپنا ارادہ اور اپنا علم اور اپنی ہوا امر رسول کے مقابل یوں ترک کر دیتے ہیں گویا وہ بے عقل اور بے ارادہ کٹھ پتلیاں ہیں۔ایسی مخلصانہ اطاعت اور خودی اور خود رائی کی کینچلی سے صاف نکل آنا ممکن نہیں۔جب تک دلوں کو کسی کے بچے ہیر یا منجانب اللہ زندگی کا یقین پیدا نہ ہو جائے۔اسی طرح میں دیکھتا ہوں کہ حضرت اقدس کو آپ کی بی بی صاحبہ صدق دل سے مسیح موعود مانتی ہیں۔اور آپ کی تبشیر ات سے خوش ہوتی اور انذرات سے ڈرتی ہیں۔غرض اس برگزیدہ ساتھی کو برگزیدہ خدا سے سچا تعلق اور پورا اتفاق ہے۔“ ہے ایمان کا ایک عجیب رنگ باوجود یکہ حضرت اُم المؤمنین کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت و ماموریت پر ایک لذیذ اور کامل ایمان تھا اس لئے کہ یہ ایمان محض رسمی رنگ نہ رکھتا تھا بلکہ وہ یقین کامل کا درجہ رکھتا