سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 417
417 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ہیں اور انہیں حضرت اُم المؤمنین کی خدمت میں سعادت نیاز حاصل ہوتی ہے وہ آپ کی محبت و شفقت ، تعلق باللہ اور اخلاق فاضلہ کا خاص اثر لیکر جاتی ہیں۔میں ان کے تاثرات میں سے بھی کچھ درج کر دیتا ہوں۔محمود عرفانی بیگم صاحبہ حضرت سیٹھ عبد اللہ بھائی کے تاثرات اس سے پہلے بیگم صاحبہ کی ایک روایت میں درج کر آیا ہوں اب اس باب میں کچھ اور روایات ان کی درج کرتا ہوں۔حضرت سیٹھ عبداللہ بھائی ان خوش قسمت قابل رشک بزرگوں میں سے ایک ممتاز بزرگ ہیں جو سلسلہ میں گو بہت پیچھے آئے مگر خدا تعالیٰ کا فضل و کرم ان کو بہت آگے لے گیا۔یہ وہ شخص ہے جس پر حضرت امیر المومنین نے کشفی رنگ میں دیکھا کہ وہ ایک تخت پر بیٹھے ہیں اور آسمان سے ان پر نور برس رہا ہے اور خدا تعالیٰ کے ان بے شمار انعامات سے جوان پر ہوئے ہیں ایک بڑا انعام یہ ہے کہ ان کی بیوی بچے سب اسی رنگ میں رنگین ہیں۔مجھے بار ہا حضرت والد صاحب کے قیام حیدر آباد کے زمانہ میں سکندر آباد جانے کا اتفاق ہوا۔میں نے ان کے گھر کو ایک مہمان خانہ پایا۔لوگ مختلف مقامات سے آ جاتے اور جب تک جی چاہتا ٹھہرتے۔کبھی نہ دیکھا کہ کسی چھوٹے بڑے کے خیال میں آیا ہو کہ یہ کیوں بیٹھا ہے۔ہر ایک کے دل میں سلسلہ کی تبلیغ اور اس کے لئے قربانی کی ایک دھن ہے اور وہ عشق جس کو انبیاء کے دشمن جنون کہتے ہیں۔خدائی مخلوق کی ہمدردی کے لئے ان میں پایا جاتا ہے۔میں خود تو ان کی محبت و ہمدردی کو اپنے جسم میں خون کی گردش کی طرح محسوس کرتا ہوں۔اللہ کریم ان پر بڑی بڑی برکات نازل کرے۔آمین۔اسی خانہ کی سردار یعنی بیگم سیٹھ عبداللہ بھائی کے تاثرات میں یہاں درج کرتا ہوں۔گڑیاں اور بُت پرستی ایک مرتبہ جب کہ ہم چند بہنیں حضرت اُم المؤمنین صاحبہ کے حضور بیٹھی ہوئی تھیں تو میں نے چند کپڑے کی گڑیاں دیکھیں۔جو بچوں کے کھلونے کے طور پر رکھی ہوئی تھیں میں نے عرض کیا کہ یہ گڑیاں کیوں رکھی ہیں ؟ اسلام نے تو منع فرمایا ہے۔حضرت اُم المؤمنین نے میرے سوال پر بُر انہیں منایا بلکہ نہایت محبت سے جواب دیا کہ اصل