سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 413
413 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ خیال کر کے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو میرے لئے بطور خادم مقرر کر دیا شکر کرتی ہیں اور اس کا ظہور خطا پوشی اور معافی کے رنگ میں فرماتی ہیں۔یہ دستور العمل آپ کا اس گھر میں آنے سے برابر نظر آ رہا ہے اس وقت تک اس میں فرق نہیں آیا۔زیادتی ہی ہوئی ہے۔اللهم زِدُ فَزِدُ (۳) اسی طرح ایک مرتبہ میرے لڑکے احمد حسین نے جو اس وقت چھوٹا بچہ تھا۔دو تین سیرمٹی کا تیل گرا دیا۔اس کو یا مجھے کچھ نہ فرمایا۔ناراضگی کا تو ذکر ہی کیا۔آپ کی عادت میں داخل ہے کہ جب کسی سے کچھ نقصان ہو جاتا تو ناراضگی کا اظہار نہ فرماتیں بلکہ اپنی رحیمانہ طبیعت سے درگز ر فرما کر اصلاح کا موقع دیا کرتی ہیں۔میں تو یہی مجھتی ہوں کہ تمام خادمات سے زیادہ مجھ سے محبت کرتی تھیں مگر سچ یہ ہے کہ ہر ایک یہی سمجھتی تھی کہ مجھ سے بہت محبت کرتی ہیں۔(۴) جب حضرت امیر المومنین کی آمین ہوئی تو آپ نے سب کے لئے جوڑے بنوائے اور سب سے عمدہ جوڑا مجھے عطا فر مایا کسی نے اس جوڑے کے لئے درخواست کی تو آپ نے اسے فرمایا کہ یہ حسن بی بی کے لئے ہے۔آپ سب کے ساتھ ہمیشہ خوش خلقی سے پیش آتی ہیں۔میرے ساتھ اسی وجہ سے بھی سب سے زیادہ اچھا برتا ؤ فرماتی ہیں کہ میں نے صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کو ایک سال تک دودھ پلایا تھا۔( نوٹ ) حضرت نبی کریم ﷺ کے حالات زندگی سے پتہ لگتا ہے کہ آپ رضاعت کا خاص خیال فرماتے تھے۔حضرت اُم المؤمنین بھی ان عورتوں کا خصوصیت سے خیال رکھتی ہیں۔جنہوں نے کسی بچہ کو دودھ پلایا یا کھلایا ہو اور اس قسم کی رعایت سوائے ان اخلاق کے نظر نہیں آتی جو نور نبوت سے فیض یافتہ ہوں۔محمود احمد عرفانی (۵) جب ہمیں کچھ عرصہ کے لئے قادیان سے باہر جانا پڑا تو میں نے سفر کے لئے روٹیاں پکائیں اور