سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 412 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 412

412 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ درست کر کے نہ پہنا دیا۔حضرت نبی کریم ﷺ کی شان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔خواجہ مر عاجزاں را بنده بادشاہ و بیکساں را چاکرے یہی نمونہ حضرت اقدس کی زندگی میں دیکھا گیا کہ کبھی اپنے ایک غلام کی پاسبانی فرما ر ہے ہیں کہ وہ نیند سے بیزار نہ ہو اور کبھی ایک دوسرے خادم کو اس کے خواب راحت میں پنکھا کر رہے ہیں اور کسی کے سامنے کھانا لا کر رکھتے ہیں۔اللہ اللہ یہ شان اور یہ عمل۔یہی روح حضرت اُم المؤمنین کے عمل میں پائی جاتی ہے۔گویا آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عملی زندگی کو اپنے آئینہ عمل میں نمایاں کر لیا۔یہ ایک مثال نہیں ایک خادمہ جو نماز میں آپ کو پنکھا کرتی تھی۔جب نماز کے لئے کھڑی ہوئی تو اُم المؤمنین نے اس کو پنکھا کرنا شروع کر دیا اور خدا کی ایک شکر گزار بندی کا عملی نمونہ دکھایا۔محمود عرفانی (۲) میرے سپرد یہ خدمت تھی کہ میں بھینسوں کا دودھ بلو کر مکھن وغیرہ نکالا کرتی تھی اور پھر مکھن کو گرم کر کے گھی بنایا کرتی تھی ایک دن چار پانچ سیر مکھن برتن میں ڈال کر آگ پر رکھا ہوا تھا اور آگ زیادہ تیز ہوگئی۔گھی ابل کر ضائع ہو گیا ایک عورت نے جا کر اماں جان سے شکایت کی کہ حسن بی بی نے گھی گرا دیا۔آپ نے نہ اس کو کچھ جواب دیا اور نہ مجھے کچھ کہا کہ تم نے کیوں نقصان کر دیا۔( نوٹ ) یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت کا آئینہ ہے۔گھر میں بعض خادم کوئی نقصان کر دیتے تو آپ کا یہ طرز عمل نہ تھا کہ ڈانٹ ڈپٹ کریں۔اس کی مثالیں سیرت مسیح موعود میں حضرت قبلہ عرفانی کبیر نے لکھی ہیں اور حضرت ام المؤمنین کی چشم پوشی اور عفو تقصیر کے بیانات اور روایات بھی بہت ہیں۔اسی کتاب میں آپ کے ایک خادم چراغ کا بیان درج ہے کہ بازار میں ٹھوکر کھا کر گھی کا برتن اس سے گر گیا اور مٹی ملا ہوا گھی لیکر آیا تو آپ نے کچھ نہ کہا۔یہ حضرت اُم المؤمنین کی فطرت بلند کا ایک کرشمہ ہے آپ سمجھتی ہیں کہ خادم اور خادمات بھی آخر انسان ہیں ان سے بھی غفلت اور سستی ہو جانی ممکن ہے اور بے احتیاطی سے نقصان ہو جاتا ہے آپ یہ