سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 411
411 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ خادمات کو اپنے کنبہ کا ہمیشہ ایک فرد عملاً سمجھتی رہی ہیں۔اگر کسی نے اچھا کپڑا پہنا ہوتو ہمیشہ خوش ہوتی ہیں۔یہ سیر چشمی اور وسعت حوصلہ کا ایک زریں واقعہ ہے۔محترمہ امۃ الرحمن اپنی روایات کو ختم کرتے ہوئے حضرت اُم المؤمنین کی شفقت و کرم کے عملی مظاہرہ سے بے خود ہوگئی ہیں اور وہ آپ کے وجود کو ایک نشان اور خدا تعالیٰ کا خاص فضل یقین کرتی ہیں اور اس میں کیا شبہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی وحی میں ان کو اپنی خدیجہ اور اپنی نعمت قرار دیا ہے۔اہلیہ ملک غلام حسین صاحب کا بیان ملک غلام حسین صاحب رہتاس ضلع جہلم کے باشندے ہیں ابتدأ وہ لنگر خانہ میں نان پز کی خدمت پر آئے یہاں کی رہائش اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں سے انہوں نے بھی حصہ لیا۔حضرت اقدس کی زندگی میں ایک مرتبہ کسی شامت اعمال پر انہیں قادیان سے حکماً جانا پڑا۔آخر اللہ تعالیٰ نے رحم فرمایا اور اب وہ قادیان میں ایک بڑے کنبہ کے بزرگ ہیں ان کی اہلیہ صاحبہ نے حضرت اُمم المؤمنین کی دادور دہش، فیاضی ، چشم پوشی اور درگزر کے چند واقعات لکھ کر دیے ہیں جن کو ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔(1) محترمه حسن بی بی (اہلیہ ملک غلام حسین صاحب) بیان کرتی ہیں کہ جب میں پہلے پہل قادیان آئی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر میں ٹھہری۔حضرت ام المؤمنین نے میرے بچوں کے لئے ایک مٹھائی کا تھال منگوایا اور میرے پرانے کپڑے جو رنگ دار تھے ( ان اضلاع میں عام طور پر نیلے رنگ کے کپڑے اس زمانہ میں عورتیں پہنتی تھیں ) آپ نے فوراً بدلوا دئیے اور ایک نیا جوڑا اپنا نکال کر مجھے پہنے کو دیا اور آپ دو پٹہ چن کر مجھے دیا۔حالانکہ اس سے پیشتر میری کوئی واقفیت نہ تھی محض اپنے حسنِ اخلاق کی وجہ سے ایسا حسن سلوک کیا۔( نوٹ ) یہ واقعہ اسلامی تعلیم پر عمل کی روح کو ظاہر کرتا ہے۔یہ بی بی ایک خادم کی بی بی تھی اور ایک خادمہ کی حیثیت سے آئی تھی مگر حضرت اُم المؤمنین کی مہمان نوازی اور فیاضی نے چین نہ لینے دیا۔جب تک اس کے بچوں کے لئے مٹھائی اور خود اس کے پرانے کپڑوں کو اتر وا کر اپنا نیا جوڑا خود