سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 398
398 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سا بیٹا ہے جو ساری دنیا کو روشن کر رہا ہے کون کہتا ہے اس کا بیٹا نہیں۔اتنے میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نماز پڑھا کر مسجد سے آگئے اور صحن میں سے گزرکر اپنے گھر تشریف لے گئے تو آپ نے پھر فرمایا دیکھا اس کا بیٹا سب حیران خاموش ہو گئیں۔(مائی فجو نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو کھلایا تھا) یہ مائی فجو کی دلنوازی ساری عمر تک اسے خوش کرتی رہی اور اسے بہت بڑا فخر ہو گیا کہ میرا بیٹا چاند ایسا ہے آپ کی خوش وقتی اور تفریح سیر کو جانا ہوتی ہے اور وہاں کسی سایہ دار جگہ یا اپنے باغ میں اپنے ساتھ والیوں کو کھلانا، پلانا پھل تازہ پانی اچار، چٹنی سے روٹی وغیرہ کھانا۔غرض کہ حضرت ام المؤمنین مجموعہ حسن و خوبی اور ایک رحمت مجسم مادر کی شان رکھتی ہیں۔اللہ تعالیٰ جماعت کی خواتین کیلئے اس رحمت و شفقت بھری گود والی پاک دامن اور مستجاب الدعوات ماں کو دیر تک زندہ وسلامت رکھے اور اس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حقیقی نورانی فیض کو اتنی دیر تک جاری رکھے کہ ہمارے ایسے کئی بہن بھائیوں کی روحیں صدیق اور شہید پاکیزہ اور متقی لوگوں کا درجہ پائیں اور احمدیت و اسلام کی شان اتنی ترقی کرے کہ صدیوں تک یہ فیض احمدیت اور غلبہ روحانی کم نہ ہونے پائے۔آمین ام محمود عرفانی کے تاثرات نا چیز طالب دعا سكية النساء از قادیان دارالامان میری امّی ۱۸۹۸ء کے اوائل میں حضرت والد صاحب عرفانی کبیر کے ساتھ ہجرت کر کے قادیان آگئی تھیں اس وقت دار الامان میں گنتی کے چند آدمی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت میں رہتے تھے۔حضرت اُم المؤمنین میری امی کو بہو کے خطاب سے عزت دیتے تھے اور آج تک اسی نام سے ان کو خطاب فرماتی ہیں۔حضرت والد صاحب عرفانی کبیر کو بعض اوقات اپنے ذاتی یا سلسلہ کے کاموں کے لئے با ہر جانا پڑتا تھا تو والدہ صاحبہ حضرت ام المؤمنین کے ہاں چلی جاتی تھیں اور جب تک والد صاحب واپس نہ آتے رات کو وہیں قیام فرما ر ہتیں اور دن کو گھر آ جایا کرتی تھیں۔میں تو اس