سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 27
27 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت اُم المؤمنین کے آبائی بزرگوں کا اجمالی تذکرہ حضرت اُم المؤمنین نصرت جہاں بیگم کے بزرگوں کی ابتدا ء خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود مبارک سے ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نور نظر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں اور آپ کے لخت جگر حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما تھے۔حضرت امام حسین شہید کربلا کے لختِ جگر حضرت امام سید زین العابدین تھے۔حضرت اُم المؤمنین کا خاندان حسینی سادات کا خاندان تھا۔اس طرح اس خاندان کے مورث اعلیٰ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔حضرت امام حسین کو جو نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے تھے۔ان کی نیکی ، تقوی، بزرگی ، علو مرتبت کو تمام مسلمان جانتے ہیں۔میدانِ کربلا میں آپ نے جو ایثار اور قربانی کا نمونہ دکھایا اُس کی مثال دنیا میں کہیں نظر نہ آئے گی۔خاندان کے بیشتر افراد ایک ایک کر کے اپنی آنکھوں کے سامنے کٹوا دئیے۔مگر ظلم اور خلاف حق کے سامنے اپنی گردن خم نہ کی۔اس پر اکتفا نہ ہوا بلکہ اپنی عزیز جان بھی طرح طرح کے مصائب اور مظالم کو برداشت کرتے ہوئے قربان کر دی اور ایک فاسق فاجر انسان کی اطاعت کو قبول نہ کیا۔اسی کا نتیجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو جنت کے سرداروں میں سے قرار دیا۔انہوں نے دنیا کی تمام تلخیوں، شرارتوں اور بظاہر ناکامیوں کو قبول کر کے دنیا کو ایک سبق دیا کہ سچائی زندگی اور جان سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔اس قربانی کا جو انہوں نے اپنے اور اپنے خاندان کے خون سے دی یہ نتیجہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک اسلام کی خدمت کرنے والی جماعتیں آپ کی نسل میں پیدا کر دیں اور متفقین کا امام بنادیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جو اس سے قبل اس خاندان کے مورث اعلیٰ تھے۔ان کو بھی اپنے ایک بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور بیوی کی خدا تعالیٰ کی رضاء کے لئے ایک قربانی دینی پڑی تھی۔چنانچہ قرآن کریم نے ان کی ایک دعا کا ذکر فرمایا ہے۔فرماتا ہے: رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلوةَ فَاجْعَل أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِم وَارْزُقُهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمُ يَشْكُرُونَ