سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 364
364 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ مجھ پہلا فرزند ہے محمود مبارک چوتھا دونوں کے بیچ بشیر اور شریفاں تیرا تو نے ان چاروں کی پہلے سے بشارت دی تھی تو وہ حاکم ہے کہ ٹلتا نہیں فرماں تیرا تیرے احسانوں کا کیونکر ہو بیاں اے پیارے مجھ پہ بیحد ہے کرم اے میرے جاناں تیرا تخت پر شاہی کے ہے مجھ کو بٹھایا تو نے دین و دنیا میں ہوا مجھ پہ یہ احساں تیرا کس زباں سے کروں شکر کہاں ہے وہ زبان کہ میں ناچیز ہوں اور رحم فراواں تیرا وہ لطف کئے تو نے جو برتر ز خیال ذات برتر ہے تیری پاک ہے دیواں تیرا چن لیا تو نے مجھے اپنے مسیحا کے لئے سب سے پہلے یہ کرم ہے میرے جاناں تیرا کس کے دل میں یہ ارادے تھے یہ تھی کس کی خبر کون کہتا تھا کہ یہ بخت ہے رخشاں تیرا پر میرے پیارے یہی کام تیرے ہوتے ہیں ہے یہی فضل تیری شان کے شایاں تیرا فضل سے اپنے بچا ہم کو ہر اک آفت سے صدق سے ہم نے لیا ہاتھ میں داماں تیرا کوئی ضائع نہیں ہوتا جو ترا طالب ہے کوئی رسوا نہیں ہوتا جو ہے جو یاں تیرا آسماں پر سے فرشتے بھی مدد کرتے ہیں کوئی ہو جائے اگر بندہ فرماں تیرا جس نے دل تجھ کو دیا ہو گیا سب کچھ اس کا سب ثناء کرتے ہیں جب ہو جائے ثنا خواں تیرا اس جہاں میں ہی وہ جنت میں ہے بے ریب ونگاں وہ جو اک پختہ تو کل سے ہے مہماں تیرا عمر دے رزق دے اور عافیت و صحت بھی سب سے بڑھ کر یہ کہ پا جائیں وہ عرفاں تیرا اب مجھے زندگی میں ان کی مصیبت نہ دکھا بخش دے میرے گناہ اور جو عصیاں تیرا اس جہاں کے نہ رہیں کیڑے یہ کر فضل ان پر ہر کوئی ان میں سے کہلائے مسلماں تیرا غیر ممکن ہے کہ بنا تیرے پاؤں یہ مراد بات جب بنتی ہے جب سارا ہو ساماں تیرا بادشاہی ہے تری ارض و سما دونوں میں حکم چلتا ہے ہر اک ذرہ پہ ہر آں تیرا میرے پیارے مجھے ہر درد و مصیبت سے بچا تو ہے غفار یہی کہتا ہے قرآں تیرا صبر جو پہلے تھا اب مجھ میں نہیں ہے پیارے دکھ سے اب مجھ کو بچا نام ہے رحمن تیرا ہر مصیبت سے بچا اے میرے آقا ہر دم حکم برتر ہے زمیں تیری ہے دوراں تیرا غرض حضرت اُم المؤمنین کا وجود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا ایک چمکتا ہوا