سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 342 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 342

342 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ وساطت سے شادی و غمی کے نظارے دیکھنے نصیب ہوئے حضرت صاحبزادی امتہ الحمید بیگم صاحبہ کی شادی کی تقریب جو نواب محمد علی خان صاحب مالیر کوٹلہ کے صاحبزادہ سے ہوئی ساری کی ساری میرے سامنے عمل میں آئی میں چھے سچ کہتی ہوں کہ جس انتہائی سادگی و بُردباری کے ساتھ تقریب عمل میں آئی اس کا نشان کچھ تیرہ سو سال پہلے میں ہی ملتا ہے اسی طرح کئی دفعہ تعزیت کی تقریبیں آئیں یہاں بھی اسی حد تک رنج و غم جتنا کہ خدا کے احکام اجازت دیتے ہیں۔کہتے ہیں علم اور عمل میں بڑا فرق ہوتا ہے لیکن میں یہاں یہ مشاہدہ کرتی ہوں کہ علم اور عمل میں مطابقت پیدا کی جا رہی ہے۔خاوند کی آمد پر مبارک باد اگر چہ ذاتی طور پر مجھے حیا آتی ہے کہ میں ظاہر کروں کہ حضرت ام المؤمنین کے ایک خلق کا اظہار اس حیا پر غالب آ رہا ہے اس لئے عرض کرتی ہوں جس وقت حیدر آباد سے میرے شوہر قادیان شریف تشریف لائے اور حضرت اُم المؤمنین کو معلوم ہوا تو انہوں نے مجھے مبارک باد دی کہ تمہارے شوہر آگئے۔اس سے آپ کی مراد یہ ہوتی ہے کہ بیویوں پر خاوندوں کی عظمت ظاہر ہو۔سادگی وصداقت جس وقت کوئی مخلص خاتون یہ عرض کرتی کہ میں آپ کی خدمت میں فلاں تحفہ بھیجنا چاہتی تو آپ قبول کرتے ہوئے سادگی سے کبھی فرما دیتی ہیں کہ فلاں وقت تک جو بھیجنا ہو بھیج دو۔اچھے ناموں سے یاد کرنا حضرت ام المؤمنین کی یہ عادت شریف ہے کہ آپ اپنے ملنے والوں کو خواہ وہ چھوٹی ہیں یا بڑی عمر کی ان کے اچھے ناموں سے یاد فرماتی ہیں۔بُرے مختصر ناموں سے نہیں یا دفرما تیں۔مثلاً میری خوشدامن صاحبہ مرحومہ مجھے دلہن پاشاہ کے نام سے بلاتی تھیں اور حضرت ام المؤمنین نے اسے سن لیا تو خود بھی اپنی شفقت سے دلہن پاشاہ ہی فرمایا کرتی ہیں۔آپ نے خصوصیت سے اس مبارک شادی کی شرکت کے لئے کئی ماہ روک لیا تھا۔