سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 320 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 320

320 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ضروری اعلان میرا لخت جگر عزیز محبوب احمد عرفانی مرحوم و مغفور بھی اپنے قلب میں اپنی خاندانی روایات کے مطابق خاندان کی بڑی محبت رکھتا تھا۔وہ آج اگر زندہ ہوتا تو اس کتاب کے اشاعت پذیر ہونے پر بڑی خوشی اور مسرت محسوس کرتا مگر مشیت الہی اسے اپنے پاس لے گئی اور میں آج اس کی عدم موجودگی کی کمی کو محسوس کر رہا ہوں۔اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ میں اس کی روح کو ثواب پہنچانے کی غرض سے دس کتابیں مدرسہ احمدیہ کے نادار اور نیک لڑکوں کو مفت اس شرط پر دوں گا کہ وہ عزیز محبوب احمد عرفانی کے لئے دعا کیا کریں گے۔( محمود احمد عرفانی) جذبات امتنان ! ا۔سب سے اول تو اللہ کی بے حد حمد وشکر ہے کہ جس نے باوجو د شدید حالات مرض کے مجھے توفیق دی کہ میں اس کتاب کو ایک حد تک پایہ تکمیل کو پہنچا سکوں۔پھر اس نے اپنے فضل سے اس کی قبولیت کیلئے احباب کے قلوب میں تحریک کی اور اس کی قبولیت اس کی اشاعت سے قبل ہی قائم کر دی۔پس سب شکر و حمد اس کو ہے۔الحمد لله اولا واخرا وظاهرا وباطنا وله الحمد ۲۔پھر میں خاندان کے افراد کا شکر گزار ہوں جن میں سے اکثر افراد نے میری ہر رنگ میں حوصلہ افزائی فرمائی۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز جن کو میں نے ان کی علالت طبع کے پیش نظر کسی قسم کی تکلیف دینی پسند نہ کی تھی۔ان کے متعلق مجھے متعدد مرتبہ معلوم ہوا کہ ان کی ذات گرامی کی عنایات ہر وقت میرے شامل حال رہیں۔حضرت اماں جی حرم حضرت خلیفہ اول کو بمبئی سے بعض روایات کے متعلق لکھا وہ اس وقت ڈلہوزی میں تھیں انہوں نے حضرت سے میری خواہش کا ذکر کیا۔حضور نے ان سے میری سفارش فرمائی کہ وہ ضرور اپنی روایات مجھے لکھ دیں یا لکھوادیں۔فنانشل سیکرٹری صاحب تحریک جدید سے جب میں نے نو سالہ حسابات مانگے اور انہوں نے حضرت سے اجازت چاہی تو حضور نے بخوشی اجازت مرحمت فرما دی۔اسی طرح کتاب کے نام کے متعلق بھی آپ نے پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کی معرفت بعض اہم ہدایات مرحمت فرمائیں۔ان سب امور سے حضور کی عنایت و شفقت کا بآسانی پتہ چل سکتا ہے۔