سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 274 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 274

274 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ یہ کیسے زریں اصول ہیں جن پر عمل کرنے سے واقعی بچوں کی کایا پلٹ سکتی ہے۔اب گنجائش نہیں کہ ان زریں اصولوں کی کوئی مزید تشریح کی جائے۔احباب خود اپنی اپنی جگہ فائدہ اٹھا لیں۔استانی سكينة النساء بیگم تحریر فرماتی ہیں: تربیت اولاد کا حضرت اُم المؤمنین کو خاص ملکہ ہے۔آپ کی اولاد میں سے ایک تو روشن چاند خلیفہ ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ہیں۔مجھ ایسی ناچیز کو کچھ لکھنے کی ضرورت ہی نہیں۔دنیا جہان پر روشن ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے، حضرت مرزا شریف احمد صاحب نہایت صالح نہایت نیک اخلاق ، سارے جہان پر ان کے علم وفضل اور حسن واحسان کا شہرہ ہے۔ماشاء اللہ نواب مبارکہ بیگم اور صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم دونوں باوقار، صالحہ، بے حد متقی ، عالمه، فاضله، با عزت، با عصمت، خوش اخلاق ، سچائی پسند ، برائیوں سے دور لوگوں سے بھلائی کرنے والی ہیں۔یعنی اگر مجموعہ حسن و خوبی دیکھنا ہو تو اماں جان کی اولا د کو دیکھو۔حضرت اُم المؤمنین نے نرمی اور سختی سے بھی بار ہا یہ بات بیان فرمائی ہے کہ جھوٹ بولنا اور مبالغہ آمیز بات کرنا کبیرہ گناہ ہے“۔تربیت اولاد کے سلسلہ میں چوہدری غلام قادر صاحب نمبر دار اوکاڑہ نے ایک روایت لکھی ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد غالباً 1909ء میں حضرت ام المؤمنین سارے کنبہ سمیت دہلی تشریف لے گئی تھیں۔اس سال حضرت خلیفتہ المسیح الثانی جو اس وقت ابھی صاحبزادہ صاحب ہی کہلاتے تھے، کا لیکچر بھی دہلی میں جامع مسجد کے پاس ہوا تھا جس کی صدارت خواجہ حسن نظامی صاحب نے کی تھی۔اس وقت چوہدری صاحب محکمہ بندوبست کے انگریزی دفتر میں سیکنڈ کلرک تھے اور حضرت میر قاسم علی صاحب مرحوم بھی نائب ناظر تھے اور یہ دونوں صاحب دریا گنج کے مکان میں اکٹھے رہا کرتے تھے۔وہیں خاندان مسیح موعود علیہ السلام ان ایام میں قیام پذیر ہوا تو حضرت میر صاحب کی زبانی یہ امر معلوم ہوا کہ : حضرت اُم المؤمنین اپنے بچوں، بہو، بیٹیوں کی عبادات وغیرہ کے متعلق پوری توجہ سے نگرانی فرماتی ہیں۔نماز تہجد کا خاص اہتمام فرماتی ہیں اور ہمیشہ خاندان کے افراد کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نقش قدم پر چلنے کی تاکید فرماتی رہتی ہیں۔