سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 273
273 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کے لئے لکھ کر مجھے مرحمت فرمایا۔آپ تحریر فرماتی ہیں: اصولی تربیت میں میں نے اس عمر تک بہت مطالعہ عام و خاص لوگوں کا کر کے بھی حضرت والدہ صاحبہ سے بہتر کسی کو نہیں پایا۔آپ نے دنیوی تعلیم نہیں پائی ( بجر معمولی اُردو خواندگی کے ) مگر جو آپ کے اصول اخلاق و تربیت ہیں ان کو دیکھ کر میں نے یہی سمجھا ہے که خاص خدا کا فضل اور خدا کے مسیح کی تربیت کے سوا اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ سب کہاں سے سیکھا؟ ا۔بچے پر ہمیشہ اعتبار اور بہت پختہ اعتبار ظاہر کر کے اس کو والدین کے اعتبار کی شرم اور لاج ڈال دینا یہ آپ کا بڑا اصول تربیت ہے۔۲۔جھوٹ سے نفرت اور غیرت وغنا آپ کا اوّل سبق ہوتا تھا۔ہم لوگوں سے بھی آپ ہمیشہ یہی فرماتی رہیں کہ بچہ میں یہ عادت ڈالو کہ وہ کہنا مان لے۔پھر بے شک بچپن کی شرارت بھی آئے تو کوئی ڈر نہیں۔جس وقت بھی روکا جائے گا باز آ جائیگا اور اصلاح ہو جائے گی۔فرماتیں کہ اگر ایک بار تم نے کہنا ماننے کی پختہ عادت ڈال دی تو پھر ہمیشہ اصلاح کی امید ہے۔یہی آپ نے ہم لوگوں کو سکھا رکھا تھا اور کبھی ہمارے وہم وگمان میں بھی نہیں آ سکتا تھا کہ ہم والدین کی عدم موجودگی کی حالت میں بھی ان کے منشاء کے خلاف کر سکتے ہیں۔" حضرت اُم المؤمنین ہمیشہ فرماتی تھیں کہ ”میرے بچے جھوٹ نہیں بولتے اور یہی اعتبار تھا جو ہم کو جھوٹ سے بچا تا بلکہ زیادہ متنفر کرتا تھا۔دو مجھے آپ کا سختی کرنا کبھی یاد نہیں۔پھر بھی آپ کا ایک خاص رعب تھا اور ہم بہ نسبت آپ کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دنیا کے عام قاعدہ کے خلاف بہت زیادہ بے تکلف تھے۔اور مجھے یاد ہے کہ حضور اقدس کے حضرت والدہ صاحبہ کی بے حد محبت و قدر کرنے کی وجہ سے آپ کی قدر میرے دل میں اور بھی بڑھا کرتی تھی۔بچوں کی تربیت کے متعلق ایک اصول آپ یہ بھی بیان فرمایا کرتی تھیں کہ پہلے بچے کی تربیت پر اپنا پورا زور لگاؤ دوسرے ان کا نمونہ دیکھ کر خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے“۔