سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 255
255 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ عُسر و ئیسر کی گھڑیوں میں خاوند کا مکمل ساتھ اور رضاء بالقضاء کے علاوہ خدا تعالیٰ سے کچی وفاداری کا ثبوت ہے۔اس استقلال، اس نیکی ، اس تقویٰ کا نتیجہ یہ تھا کہ خدا تعالیٰ نے اپنا اٹل فیصلہ صادر فرمایا کہ ایسی بہادر ماں کے بطن سے اور ایسے عظیم الشان باپ کے صلب سے وہ عظیم الشان بیٹا پیدا ہو جو مصلح موعود ہو اور اس کے سوا اور بھی بیٹے پیدا کئے جائیں جو ان نوروں کی تخمریزی کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیا گیا۔اس لئے بشیر اول کا جیسے آنا بابرکت تھا اسی طرح اس کا جانا بھی دنیا کے لئے بڑا ضروری تھا۔یہ سب کچھ جو ملا وہ اسی لئے ملا کہ مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت ام المؤمنین اور مومنوں کے صبر کا اجر ہو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ابتداء سے ہی قرآن کریم میں یہ اصول درج فرما دیا تھا کہ : وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلوةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ - یہ قانون الہی ہے کہ مصیبت پر صبر کرنے والوں پر رحمت اور فضل کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔چنانچہ حضرت اقدس نے تقریر حقانی میں لکھا: ” خدا تعالیٰ کی انزال رحمت اور روحانی برکت کے بخشنے کیلئے بڑے عظیم الشان دو طریقے ہیں۔ا۔اوّل یہ کہ کوئی مصیبت اور غم واندوہ نازل کر کے صبر کرنے والوں پر بخشش اور رحمت کے دروازے کھولے۔۔دوسرا طریق انزال رحمت کا ارسال مرسلین و تبیین و ائمہ واولیاء وخلفاء ہے۔تا ان کی اقتداء و ہدایت سے لوگ راہِ راست پر آ جائیں اور ان کے نمونے پر اپنے تئیں بنا کر نجات پا جائیں۔سو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس عاجز کی اولاد کے ذریعے سے یہ دونوں شق ظہور میں آجائیں“۔آپ نے تحریر فرمایا کہ: قسم اول کے انزال رحمت کے لئے بشیر کو بھیجاتا بَشِرِ الصَّبِرِین کا سامان مومنوں کے لئے تیار کر کے اپنی بشریت کا مفہوم پورا کرے۔اور دوسری قسم رحمت کی جو اور